ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرے گا اور کسی بھی دباؤ یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی صدر نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں امریکی قیادت کے بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ایران کے خلاف دباؤ، دھمکیوں اور تقسیم کی کوششوں سے کوئی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فوج کے ایرانی جزیروں پر مزید حملے، ایران کا بھی پلٹ کر وار
مسعود پزشکیان نے کہا کہ جو لوگ جنگ اور طاقت کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ بتائیں کہ انہیں عملی طور پر کیا حاصل ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ یران اپنے اقدامات کے ذریعے ثابت کرے گا کہ وہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے متحد ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ملک کے عوام اور ادارے کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں:آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت نامظور ،جنگ پھیلی تو پورا خطہ لپیٹ میں آئیگا، ایران کا سخت انتباہ
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی نے بھی سخت بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مخالف فریق نے مفاہمتی یادداشت کی تمام شقوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اب صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔
ابراہیم رضائی کے مطابق اگر کسی معاہدے یا مفاہمتی عمل کی بنیاد ختم ہو جائے تو اس پر عمل درآمد بھی ممکن نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے معاملات میں اپنی پالیسی کے مطابق فیصلے کرے گا۔




