ٹرمپ نے آبنائےہرمز میں 20فیصد ٹیکس وصولی سے متعلق بیان پر یوٹرن لے لیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یو ٹرن لیتے ہوئے آبنائے ہرمز میں 20 فیصد ٹیکس وصولی کا فیصلہ واپس لے لیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹیکس کو امریکا میں خلیجی ملکوں کی سرمایہ کاری کے معاہدوں سے بدلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرمایہ کاریاں خلیجی ملکوں کے لیے غیر معمولی اور بہترین ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:صدر ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھالنے ،دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان

اوول آفس میں بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے اپنا فیصلہ خلیجی ملکوں کے رہنماؤں سے بات چیت کے بعد بدلا ہے۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ انہیں مختلف ملکوں سے مختلف لوگوں نے، بادشاہوں نے، امیروں نے اور ان لوگوں نے ، جنہیں وہ جانتے ہیں، اور جن سے پیار کرتے ہیں، کال کی ہے ۔

ٹرمپ نے کہا کہ کال کرنے والے سب لوگوں نے ان سے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر کسی اور طرح سے عمل کرنا چاہتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ وہ آبنائے ہُرمُز سے ٹول ٹیکس کی بات اس لیے کر رہے تھے کہ یہ درحقیقت اس سکیورٹی کا معاوضہ ہوگا جو امریکا انہیں فراہم کرے گا تاہم اب وہ سمجھتے ہیں کہ خلیجی ملکوں کی جانب سے امریکا میں سرمایہ کاری کی تجویز زیادہ بہتر بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ مسترد کر دیا، انتباہ بھی جاری کردیا

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی دوبارہ ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز کے محافظ کے نام سے جانا جائے گا، آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام کارگو پر 20 فیصد کی شرح سے فیس لیں گے۔