پاکستان میں سوزوکی کلٹس خریدنے کا ارادہ رکھنے والے صارفین کے لیے پاک سوزوکی نے گاڑی کے مختلف ویریئنٹس کی قیمتوں، ودہولڈنگ ٹیکس اور مجموعی لاگت کی نئی مالیاتی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ ان سرکاری اعداد و شمار کی مدد سے خریداروں کو اپنی پسندیدہ گاڑی کی بکنگ اور خریداری سے پہلے اپنے بجٹ کا درست اندازہ لگانے میں آسانی ہوگی۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، سوزوکی کلٹس کے بنیادی ماڈل VXR کی ایکس فیکٹری قیمت 40 لاکھ 89 ہزار 490 روپے مقرر کی گئی ہے۔ فائلرز کے لیے اس ماڈل پر 40 ہزار 895 روپے جبکہ نان فائلرز کے لیے 1 لاکھ 22 ہزار 685 روپے ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہوگا۔ اس طرح ٹیکسز شامل ہونے کے بعد فائلرز کے لیے گاڑی کی مجموعی قیمت 41 لاکھ 30 ہزار 385 روپے جبکہ نان فائلرز کے لیے 42 لاکھ 12 ہزار 175 روپے بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا گاڑیاں خریدنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری، بینک الحبیب اور انڈس موٹرز کا شاندار مشترکہ منصوبہ
کلٹس VXL اور AGS ماڈلز کی قیمتیں:
سوزوکی کلٹس کے مڈ ویریئنٹ VXL کی ایکس فیکٹری قیمت 43 لاکھ 59 ہزار 160 روپے رکھی گئی ہے۔ ٹیکس کی کٹوتی کے بعد فائلر صارفین کے لیے اس کی مجموعی لاگت 44 لاکھ 2 ہزار 752 روپے تک پہنچ جائے گی جبکہ نان فائلرز کے لیے اس گاڑی کی کل قیمت 44 لاکھ 89 ہزار 935 روپے ہوگی۔
کلٹس کا سب سے ٹاپ ویریئنٹ AGS ہے، جس کی ایکس فیکٹری قیمت 45 لاکھ 91 ہزار 460 روپے مقرر کی گئی ہے۔ اس ماڈل پر مطلوبہ ودہولڈنگ ٹیکس شامل کرنے کے بعد فائلرز کے لیے اس کی مجموعی قیمت 46 لاکھ 37 ہزار 375 روپے بنتی ہے، جبکہ نان فائلرز کے لیے اس کی مجموعی لاگت 47 لاکھ 29 ہزار 204 روپے تک چلی جائے گی۔
وارنٹی میں توسیع اور بینک فنانسنگ کی سہولت:
پاک سوزوکی نے اپنے صارفین کو طویل مدت تک ذہنی سکون فراہم کرنے کے لیے وارنٹی میں توسیع کی ایک خاص سہولت بھی پیش کی ہے۔ کمپنی اعلامیے کے مطابق، خریدار صرف 28 ہزار روپے کے اضافی چارجز ادا کر کے اپنی گاڑی کی وارنٹی کو چار سال تک بڑھا سکتے ہیں، جو طویل عرصے تک گاڑی اپنے پاس رکھنے والے مالکان کے لیے ایک بہترین اور مفید آپشن ثابت ہوگی۔
مزید پڑھیں: اٹلس ہونڈا نے سی ڈی 70 ڈریم 2025 ماڈل پیش کر دیا، قیمت اور فیچرز جاری
اس کے ساتھ ہی کمپنی نے واضح کیا ہے کہ جو صارفین بینک یا کسی لیزنگ کمپنی کے ذریعے گاڑی فنانس کروانا چاہتے ہیں، ان کے لیے ڈاؤن پیمنٹ، ماہانہ اقساط، مارک اپ یعنی شرح منافع اور دیگر تمام شرائط متعلقہ مالیاتی ادارے یا بینک کی رائج پالیسی کے مطابق ہی طے کی جائیں گی۔




