آزاد جموں و کشمیر کی اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے ایک بڑا اور اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔ آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے حال ہی میں نافذ کیے جانے والے “ایڈہاک ایکٹ 2026” کو باقاعدہ طور پر معطل کرتے ہوئے اس کے خلاف حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈر) جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس سردار محمد اعجاز خان نے “خضر سلیم بنام آزاد حکومت و دیگر” کیس کی ابتدائی اور تفصیلی سماعت مکمل کرنے کے بعد اس اہم درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ عدالتِ عالیہ نے کیس کی حساسیت اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے عبوری حکم نامہ جاری کیا، جس کے تحت ایڈہاک ایکٹ 2026 کو فوری طور پر معطل کرنے کے احکامات صادر کیے گئے ہیں۔
ایڈہاک اور عارضی ملازمین کی مستقلی کا عمل رک گیا:
یاد رہے کہ اس متنازع ایڈہاک ایکٹ 2026 کے تحت آزاد جموں و کشمیر بھر کے مختلف سرکاری محکموں میں طویل عرصے سے تعینات ایڈہاک، عارضی اور کنٹریکٹ ملازمین کی ملازمتوں کو بغیر کسی تساہل کے مستقل (ریگولر) کیا گیا تھا۔ حکومت کے اس اقدام کو اب عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔
ہائی کورٹ کے اس حالیہ عبوری حکم کے سامنے آنے کے بعد مذکورہ ایکٹ کے تحت اب تک کی جانے والی تمام تر تادیبی اور انتظامی کارروائیاں آئندہ حتمی عدالتی فیصلے تک مکمل طور پر معطل رہیں گی اور ملازمین کی مستقلی کا عمل روک دیا جائے گا۔ عدالتِ عالیہ کے مطابق اس اہم کیس کی مزید باقاعدہ سماعت بعد ازاں مقررہ تاریخ پر کی جائے گی، جس کے لیے فریقین کو نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔
آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ایڈہاک ایکٹ 2026 معطل کر دیا،کشمیر ڈیجیٹل کی رپورٹ pic.twitter.com/R3HdfvsUJB
— Kashmir Digital (@KashmirDigital1) July 14, 2026




