آبنائے ہرمز

عالمی توانائی بحران کا خدشہ : ایران نے آبنائے ہرمز کو تا حکمِ ثانی بند کر دیا

عالمی تجارتی اور توانائی کی منڈیوں کیلئے ایک تشویشناک خبر سامنے آئی ہے ۔

ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی ‘آبنائے ہرمز’ کو غیر معینہ مدت کیلئے بند کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچ گئی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے ایک ہنگامی بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز نے مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر منظور شدہ راستے سے گزرنے کی کوشش کی، جس پر ایرانی فورسز کی جانب سے اسے روکنے کے لیے انتباہی فائرنگ کی گئی۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر، اگلی اطلاع تک کسی بھی ملکی یا غیر ملکی بحری جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سینٹکام کا ایران پر اضافی فضائی حملوں کا دعویٰ، آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار
پاسدارانِ انقلاب نے عالمی طاقتوں کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی فریق نے اس واقعے کو بہانہ بنا کر ایران کے خلاف کوئی کارروائی یا مہم جوئی کرنے کی کوشش کی، تو اسے عبرتناک اور سخت ترین جواب دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع ایک انتہائی حساس اور کلیدی بحری راستہ ہے۔ دنیا بھر میں سپلائی ہونے والے کچے تیل کی ایک بہت بڑی مقدار اسی راستے سے گزر کر عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تزویراتی راستے کی بندش سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت اور بحری تجارت پر پڑیں گے۔

ماضی میں بھی اس خطے میں جب بھی کشیدگی بڑھی ہے، آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنی رہی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:والد سید علی خامنہ ای اور تمام شہداء کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائیگا،آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای
فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایران کی جانب سے یہ بندش کتنے دنوں تک برقرار رہے گی، تاہم اس اچانک فیصلے نے عالمی برادری اور بحری نقل و حمل کی کمپنیوں کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔