آزادکشمیر:سرکاری ملازمین کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع،تنخواہیں بند

​کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حالیہ احتجاج میں حصہ لینے والے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ حکومت آزاد کشمیر نے مذکورہ ملازمین کیخلاف تادیبی کارروائیوں کی رفتار تیز کر دی۔

ذرائع کے مطابق ریٹائرڈ ملازمین حکومتی نشانے پر آگئے دو ریٹائرڈ سرکاری اساتذہ کے خلاف آزاد جموں و کشمیر سول سرونٹس رولز 1977 اور پینشن رولز 1971 کے تحت باقاعدہ کارروائی کا آغاز۔ پینشن کی بندش کا امکان۔

مزید یہ بھی پڑھیں:برطانیہ: بڑے سپورٹر وقاص چوہان کا کالعدم ایکشن کمیٹی سے تنگ آکر پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان

​ حاضر سروس ملازمین کے خلاف ایکشن: محکمہ تعلیم، صحت، پی ڈبلیو ڈی جنگلات اور زراعت کے درجنوں حاضر سروس ملازمین کی تنخواہیں بند کر دی گئیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق احتجاج کا حصہ بننے والے دیگر ملازمین کی فہرستیں بھی تیار کی جا رہی ہیں، مزید سخت محکمانہ کارروائیاں متوقع۔ریاستی رول کی خلاف ورزی کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:فیصل ممتاز راٹھور سے عامرنذیر کی اہم ملاقات،بڑے سیاسی اپ سیٹ کا امکان

ابتدائی طور پر محکمہ تعلیمات کی جانب سے بھی بعض سرکاری اساتذہ کیخلاف تادیبی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔ جن میں لیاقت حسین ولد عبدالمجیدسینئر سائنس ٹیچر ،محمد ابرار ولد محمد اسحاق پی ای ٹی بوائز سکول چھے چھن شامل ہیں۔

محکمہ جنگلات کے سرکاری ملازمین میں اظہر سلیم ولد محمد سلیم، عابد ولد ذاکر ساکنہ کانچری ، پوسٹ ماسٹر آصف قیوم ولد محمد قیوم سکنہ منجومان،محکمہ تعلیم کے پروفیسر محمود ولد یعقوب سکنہ دھمن بلوچ کے نام شامل ہیں۔