ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کے حوالے سے ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ آخری رسومات ملکی تاریخ کی سب سے بڑی اور منفرد نوعیت کی ہوں گی جن کی دنیا میں کوئی نظیر نہیں ملے گی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای کی تجہیز و تکفین کا باقاعدہ آغاز دارالحکومت تہران سے ہو چکا ہے، جس کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو جلوس کی صورت میں قم اور پھر عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا، جہاں سے واپسی پر انہیں ایران کے شہر مشہد میں امام رضاؑ کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس تاریخی موقع پر لاکھوں افراد پہلے ہی تہران پہنچنا شروع ہو چکے ہیں جبکہ ملک بھر سے زائرین اور ماتمی جلوسوں کی آمد کا سلسلہ پورے زور و شور سے جاری ہے۔ ایرانی وزارتِ داخلہ اور مقامی انتظامیہ کے مطابق، صرف تہران میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کی توقع ہے، جبکہ قم میں 20 لاکھ اور مشہد میں 40 لاکھ سوگواروں کے پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور ایران کی محبت باہمی،پیار نہ ہوتا تو پاکستان کی ثالثی قبول نہ کرتے،اسماعیل بقائی
بین الاقوامی وفود کی آمد اور سیکورٹی انتظامات:
آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے دنیا بھر سے 100 سے زائد ممالک کے وفود تہران پہنچ چکے ہیں، جن میں پاکستان، روس، چین، عراق، افغانستان، بھارت اور آرمینیا سمیت کئی دیگر ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندے شامل ہیں۔ عراقی حکومت نے بھی جنازے کے نجف اور کربلا پہنچنے پر سیکیورٹی اور انتظامی تعاون کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق، تہران میں ہجوم کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک خصوصی ’شہری راہداری‘ منصوبہ نافذ کیا گیا ہے اور زائرین کی سہولت کے لیے ہزاروں استقبالیہ کیمپوں کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے دروازے بھی کھول دیے گئے ہیں۔ طبی سہولیات، غیر معمولی سیکیورٹی اور ٹریفک مینجمنٹ کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کی خوشی کیلئے بھارتی وزیراعظم مودی کا آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت سے انکار
مغربی ذرائع ابلاغ کا مؤقف:
دوسری جانب، مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ایرانی حکام کی جانب سے جاری کردہ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے، تاہم تہران، قم اور مشہد میں دیکھا جانے والا غیر معمولی ہجوم اور ملک گیر تعطیلات اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران ان تقریبات کو اپنی حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی اجتماعات میں تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ لاکھوں افراد کی یہ شرکت اس بات کا واضح اظہار ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے اور ملک بین الاقوامی سطح پر تنہا نہیں ہے۔




