عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی مسلسل اور جارحانہ مضبوطی کے باعث سونے کی قیمتیں شدید ترین دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں، جس کے بعد مالیاتی ماہرین نے ایک بڑا انتباہ جاری کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، رواں سہ ماہی سونے کے لیے گزشتہ 10 سال سے زیادہ عرصے کی بدترین اور نقصان دہ سہ ماہی ثابت ہو سکتی ہے۔ بین الاقوامی صرافہ مارکیٹ میں سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے سونے سے تیزی سے اپنا سرمایہ نکال کر امریکی بانڈز اور ڈالر میں منتقل کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے قیمتی دھات کی عالمی طلب میں ریکارڈ کمی دیکھی جا رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکی معیشت کی حالیہ مضبوط کارکردگی، مینوفیکچرنگ سیکٹر کے مثبت ڈیٹا اور وہاں کے مرکزی بینک کی جانب سے شرح سود کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھنے کے اشاروں نے ڈالر انڈیکس کو نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ مالیاتی اصولوں کے مطابق بلند شرح سود اور مضبوط ڈالر ہمیشہ سونے کی قیمتوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں، کیونکہ ایسی صورتحال میں سونا بڑی سرمایہ کاری کے لیے نسبتاً کم پرکشش ہو جاتا ہے اور لوگ بینکوں یا سرکاری سیکیورٹیز میں رقم رکھنا زیادہ فائدہ مند سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیا اب پاکستان میں بھی پٹرول سستا ہونے والا ہے؟ عالمی مارکیٹ کی تازہ ترین صورتحال
روزگار کا ڈیٹا اور آئندہ کے اہم پالیسی اشارے:
کموڈٹی مارکیٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز عالمی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ امریکا میں روزگار کے نئے اعداد و شمار اور امریکی مرکزی بینک کے آئندہ کے پالیسی اشارے سونے کی قیمتوں کی اگلی سمت کا تعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ اگر ڈالر کی یہ مضبوطی اسی طرح برقرار رہی تو سونے کی بین الاقوامی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھ جائے گا اور اس کی قدر میں مزید بڑی گراوٹ آ سکتی ہے۔
اگر تاریخی پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو سونا ہمیشہ سے عالمی معاشی بحرانوں، جنگوں اور افراطِ زر (مہنگائی) کے دور میں سرمایہ کاروں کے لیے ایک ‘سیف ہیون’ یعنی محفوظ ترین پناہ گاہ رہا ہے۔ جب بھی دنیا میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی ہے، سونے کی قیمتیں ریکارڈ توڑتی ہیں، جیسا کہ ماضی کے مختلف بحرانوں میں دیکھا گیا۔ تاہم اس بار صورتحال مختلف ہے؛ امریکی معیشت کی غیر متوقع مضبوطی اور ڈالر کی مسلسل بالادستی نے سونے کے روایتی کردار کو چیلنج کر دیا ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں سونے نے کئی بڑے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں، لیکن موجودہ گراوٹ 2015 کے بعد کی بدترین سہ ماہی کارکردگی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔
سرمائے کا رخ تبدیل اور لوکل مارکیٹوں پر اثرات:
سرمایہ کار اس وقت ’کیش از کنگ‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ جب تک امریکی مرکزی بینک شرح سود میں کمی کا باقاعدہ آغاز نہیں کرتا، تب تک سونے میں بڑی تیزی کی امید کم ہے کیونکہ غیر منافع بخش اثاثہ ہونے کی وجہ سے سونا فی الحال ڈالر کا مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ عالمی سطح پر سونے کی فی اونس قیمت گرنے سے پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی مقامی مارکیٹوں میں بھی سونے کے نرخ کم ہونے چاہیے، تاہم ان ممالک میں مقامی کرنسی کی بے قدری اور ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے عالمی گراوٹ کا پورا ریلیف عام صارفین تک نہیں پہنچ پاتا۔
مزید پڑھیں: سونافی تولہ 2 ہزار 300 روپے سستا، چاندی کے نرخ بھی گر گئے
مستقبل کی اہم پیشگوئی:
اگر امریکا کے روزگار کے اعداد و شمار توقع سے زیادہ مضبوط آئے، تو سونا بین الاقوامی مارکیٹ میں 1900 یا 1850 ڈالر فی اونس کی نفسیاتی سطح تک نیچے گر سکتا ہے، جو صرافہ مارکیٹ کے تاجروں کے لیے بڑا معاشی نقصان ہو گا۔




