خادم الحرمین الشریفین کی جانب سے 66 ممالک کے ایک ہزار عمرہ زائرین کی میزبانی کی منظوری

سعودی عرب کے فرمانروا اور خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار عمرہ زائرین کو خصوصی شاہی مہمان کے طور پر مدعو کرنے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کے تحت دنیا بھر کے زائرین کو سعودی عرب کی سرکاری میزبانی میں عمرہ کی سعادت حاصل ہو گی۔

یہ اہم اقدام خادم الحرمین الشریفین کے مخصوص ’’حج، عمرہ اور زیارت پروگرام برائے مہمانان‘‘ کے تحت اٹھایا گیا ہے۔ اس فلاحی اور اسلامی پروگرام کے ذریعے ہر سال دنیا کے مختلف ممالک سے منتخب کردہ افراد کو سعودی عرب آنے اور سرکاری طور پر عمرہ ادا کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا جاتا ہے۔

پروگرام کے مراحل اور شریک ممالک کی تفصیلات رواں مرحلے کے دوران دنیا کے 66 مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار خوش نصیب افراد اس شاہی اعزاز اور میزبانی سے مستفید ہوں گے۔ سعودی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے مطابق اس پورے منصوبے پر سال 1448 ہجری کے دوران چار مختلف اور منظم مراحل میں مکمل عمل درآمد کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: نیا عمرہ سیزن،سعودی عرب نے ویزوں کا اجرا شروع کر دیا

وزارت کی تفصیلات کے مطابق، ابتدائی مرحلے کے تحت ایشیا کے 16 ممالک سے تعلق رکھنے والے 250 عمرہ زائرین کو سعودی عرب آنے کی دعوت دی جائے گی۔ سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق پہلے مرحلے میں شامل ممالک میں انڈونیشیا، مشرقی تیمور، فلپائن، ملائیشیا، کمبوڈیا، تھائی لینڈ، ویتنام، میانمار، لاؤس، سنگاپور، چین، جاپان، جنوبی کوریا، ہانگ کانگ، تائیوان اور منگولیا شامل ہیں۔

سعودی قیادت کا شکریہ اور منصوبے کے مقاصد اس اہم منظوری کے موقع پر سعودی وزیرِ اسلامی امور عبداللطیف الشیخ نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ منفرد پروگرام سعودی قیادت کے اسلام اور مسلمانوں کی لازوال خدمت کے پختہ عزم کا ایک واضح اور عملی اظہار ہے۔

مزید پڑھیں: حج 2027 آن لائن رجسٹریشن : پہلے 24 گھنٹوں میں 20 ہزار سے زائد درخواستیں موصول

انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے، باہمی روابط اور یکجہتی کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق یہ پروگرام علماء، دینی رہنماؤں اور مسلم معاشروں کی نمایاں ترین شخصیات کے ساتھ تعلقات کو پہلے سے زیادہ مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔ سعودی حکومت کا یہ اقدام مسلم دنیا کے ساتھ اپنے مضبوط تعلقات اور حرمین شریفین کی خدمت کے لیے جاری کوششوں کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔