کن افراد کے شناختی کارڈ فوری بلاک کردیے جائیں گے؟ نادرا نے فہرست جاری کر دی

نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک بھر میں جعلی اور مشکوک شناختی کارڈز کے خلاف اپنی کارروائیوں کا دائرہ کار مزید تیز کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں نادرا نے ایسے تمام افراد کو سخت وارننگ جاری کر دی ہے جن کے شناختی کارڈز مشکوک پائے گئے ہیں اور ان کے خلاف فوری نوعیت کا ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔

نادرا کے ریجنل ہیڈ کوارٹر نے مشکوک شناختی کارڈ رکھنے والے افراد کی ایک بالکل نئی فہرست باقاعدہ طور پر جاری کر دی ہے۔ متعلقہ فہرست میں شامل تمام افراد کو حتمی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ محض دو ہفتوں کے اندر اندر نادرا بورڈ کے سامنے ہر صورت پیش ہوں اور اپنے کوائف سمیت اپنی اصل شناخت کی مکمل تصدیق کروائیں۔

مقررہ مدت میں پیش نہ ہونے پر کارڈز بلاک کرنے کا حکم:

نادرا حکام کی جانب سے اس حوالے سے انتہائی واضح موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جن افراد کو باقاعدہ نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں، اگر وہ دی گئی مقررہ مدت کے اندر نادرا بورڈ کے سامنے پیش ہونے میں ناکام رہے تو ان کے قومی شناختی کارڈ فوری طور پر بلاک کر دیے جائیں گے۔ نادرا نے ان تمام افراد سے کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھ تمام ضروری اور متعلقہ دستاویزات لے کر مقررہ وقت پر لازمی حاضر ہوں تاکہ ان کے ڈیٹا اور ریکارڈ کی مکمل جانچ پڑتال کا عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: شہریوں کو فراڈ سے بچانے کے لیےنادرا کی انقلابی مانیٹرنگ سروس متعارف

خیبرپختونخوا میں 1152 سے زائد افراد کو نوٹسز کا اجراء:

سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اس مہم کے دوران صرف خیبرپختونخوا میں ہی مزید 1152 سے زائد ایسے مشکوک شناختی کارڈ ہولڈرز کی نشان دہی کر کے انہیں نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ نادرا حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام افراد کا ریکارڈ مشکوک پایا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی نادرا بورڈ کے سامنے حاضری اور دستاویزات کی اسکروٹنی اب قانونی طور پر لازمی قرار دے دی گئی ہے تاکہ غیر قانونی کارڈز کا خاتمہ ممکن ہو۔

پشاور، چارسدہ اور دیگر اضلاع کے اعداد و شمار:

جاری کیے گئے سرکاری نوٹسز کی تفصیلات کے مطابق سب سے زیادہ افراد کا تعلق صوبائی دارالحکومت پشاور سے ہے، جہاں کے 874 مشکوک افراد کو نادرا نے طلب کیا ہے۔ اس کے علاوہ چارسدہ کے 192 جبکہ ٹانک کے 81 افراد کو بھی تصدیقی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ نادرا کی اس تازہ ترین فہرست میں ضلع تورغر کے 2 اور پنجاب کے ضلع جہلم سے تعلق رکھنے والے ایک مشکوک شناختی کارڈ ہولڈر کو بھی فوری تصدیق کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: ووٹر لسٹوں کی شفافیت کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل، نادرا اور الیکشن کمیشن کے درمیان اہم رابطہ

جعلی شناختی کارڈز کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا عزم:

نادرا حکام کا مزید کہنا ہے کہ ملک بھر میں جعلی شناختی کارڈز کے نیٹ ورک اور غیر قانونی دستاویزات کے خلاف یہ سخت کارروائی مسلسل اور بلاامتیاز جاری رہے گی۔ نادرا نے عام شہریوں سے بھی پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنے شناختی ریکارڈ کو ہمیشہ درست اور اپڈیٹ رکھیں اور اگر کسی بھی شہری کو نادرا کی جانب سے کوئی نوٹس موصول ہو تو وہ مقررہ وقت کے اندر متعلقہ دفتر میں حاضر ہو کر اپنی شناخت کی تصدیق کا عمل لازمی پورا کرے تاکہ قومی ڈیٹا بیس کو مزید محفوظ اور معتبر بنایا جا سکے۔