فٹبال کی عالمی تاریخ میں ایک نیا باب رقم ہو گیا ہے جہاں فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گولوں کی برسات نے شائقین اور ماہرین دونوں کو دنگ کر دیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے ابتدائی مقابلوں میں ہی فارورڈز کی شاندار کارکردگی کے باعث دہائیوں پرانے ریکارڈز پاش پاش ہو رہے ہیں جس نے اس ایونٹ کو جدید دور کا سب سے سنسنی خیز ورلڈ کپ بنا دیا ہے۔
موجودہ ٹورنامنٹ میں صرف 33 میچز کے مختصر سفر کے دوران 100 گولز کا سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے جو کہ گزشتہ 68 سال کا ایک انوکھا اور تاریخی ریکارڈ ہے۔ فٹبال ماہرین کے مطابق اگر ٹیموں کی جانب سے گول اسکور کرنے کی یہی تیز رفتار برقرار رہی تو یہ ایڈیشن فٹبال کی تاریخ کے کئی بڑے ریکارڈز ہمیشہ کے لیے مٹا سکتا ہے۔
نیدرلینڈز کے کوڈی گیپکو کا تاریخی سنگِ میل:
یہ یادگار اور تاریخی سنگِ میل اس وقت حاصل ہوا جب نیدرلینڈز اور سویڈن کے درمیان کھیلے گئے میچ میں نیدرلینڈز کے اسٹار فارورڈ کوڈی گیپکو نے گیند کو جال کی راہ دکھائی۔ نیدرلینڈز نے یہ یکطرفہ مقابلہ 1-5 سے اپنے نام کیا لیکن دنیا بھر کی توجہ کوڈی گیپکو کے اس تیسرے گول پر مرکوز رہی جس نے ٹورنامنٹ کے مجموعی گولز کی تعداد کو 100 کے ہندسے تک پہنچا کر تاریخ بدل دی۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ: پیراگوئے نے ترکیہ کو 0-1 سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا
68 سال بعد انوکھا کارنامہ اور ماضی کے ریکارڈز:
اعداد و شمار کے لحاظ سے دیکھا جائے تو فیفا ورلڈ کپ 2026 نے صرف 33 میچز میں 100 گول مکمل کر کے 1958 کے بعد پہلا موقع فراہم کیا ہے کہ اتنے کم مقابلوں میں یہ کارنامہ انجام پایا ہو۔ فٹبال کی تاریخ میں اس سے زیادہ تیز رفتار ریکارڈ صرف 1954 کے ورلڈ کپ میں قائم ہوا تھا جہاں محض 20 میچز میں 100 گول مکمل ہو گئے تھے، یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کار اسے جدید دور کا سب سے زیادہ اٹیکنگ ورلڈ کپ کہہ رہے ہیں۔
گول اسکورنگ کی اوسط اور 300 گولز کا ہدف:
موجودہ ٹورنامنٹ میں فی میچ گول اسکورنگ کی اوسط حیران کن حد تک بلند ہو کر 3.09 تک پہنچ چکی ہے جو حالیہ چند ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اگر گول کرنے کا یہی رجحان اور جارحانہ انداز برقرار رہا تو ماہرین کا پختہ خیال ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 مجموعی طور پر 300 سے زائد گولز کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر سکتا ہے جو فٹبال کی دنیا میں ایک غیر معمولی کامیابی ہوگی۔
گولز کی اس بارش کے پیچھے چھپی اصل وجوہات:
فٹبال تجزیہ کاروں کے مطابق اس غیر معمولی گول اسکورنگ کے پیچھے کئی اہم ترین عوامل اور جدید حکمتِ عملیاں موجود ہیں۔ آج کل کی ٹیمیں دفاعی انداز اپنانے کے بجائے مسلسل ہائی پریسنگ اور حملوں کو ترجیح دے رہی ہیں جس سے مخالف ٹیموں پر دباؤ بڑھتا ہے اور دفاعی غلطیاں سامنے آتی ہیں، اس کے علاوہ تیز رفتار گیندوں کی نئی ٹیکنالوجی اور میچز میں اضافی وقت (انجری ٹائم) کے بڑھنے سے بھی گولز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
مزید پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ 2026: لیونل میسی کی ہیٹ ٹرک، ارجنٹائن کا الجزائر کے خلاف فاتحانہ آغاز
شائقین کے لیے خوابوں جیسا ورلڈ کپ اور سوشل میڈیا کا ردعمل:
دنیا بھر کے فٹبال مداح اس ایڈیشن کو خوابوں جیسا ٹورنامنٹ قرار دے رہے ہیں کیونکہ زیادہ گولز کا مطلب زیادہ سنسنی، ڈرامہ اور تفریح ہے جس کا اظہار سوشل میڈیا پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اب جیسے جیسے ٹورنامنٹ آگے بڑھ رہا ہے، یہ سوال ہر جگہ زیرِ بحث ہے کہ کیا یہ ایڈیشن جدید فٹبال کی تاریخ کا سب سے یادگار ٹورنامنٹ بن جائے گا، جس کے لیے کروڑوں شائقین اگلے میچز کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔



