کم عمر بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کے تحفظ کے لیے دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پابندی کی بحث اب قانون ساز اسمبلیوں تک پہنچ چکا ہے۔ آسٹریلیا، برطانیہ اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک نے اس حوالے سے باقاعدہ قوانین نافذ کر دیے ہیں جبکہ پاکستان میں ابھی یہ اقدامات ابتدائی مراحل میں ہیں۔
دنیا بھر میں ماہرینِ صحت، والدین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان یہ سوال طویل عرصے سے زیرِ بحث تھا کہ آیا بچوں کو سوشل میڈیا کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں۔ اگرچہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تعلیم، رابطے اور سماجی سرگرمیوں کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں، تاہم ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان پلیٹ فارمز کے عادی بنانے والے مخصوص الگورتھمز اور حد سے زیادہ استعمال سے ذہنی و جسمانی صحت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے اب مختلف حکومتیں بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود یا مکمل پابند کرنے کی سمت بڑھ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: انڈونیشیا نے 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کردی
برطانیہ میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی:
برطانیہ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچے ٹک ٹاک, انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، فیس بک، یوٹیوب اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز استعمال نہیں کر سکیں گے۔ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے سوشل میڈیا کے عادی بنانے والے الگورتھمز پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کو کم عمر صارفین کے نئے اکاؤنٹس کی روک تھام اور موجودہ اکاؤنٹس کی بندش کو یقینی بنانا ہوگا، تاہم واٹس ایپ اور سگنل کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
BREAKING: Prime Minister Sir Keir Starmer has announced a social media ban for under-16s.
Live updates: https://t.co/Jxi67uC5Qk pic.twitter.com/VnIFMyjAhs
— Sky News (@SkyNews) June 15, 2026
آسٹریلیا کا ‘بلینکٹ بین’ قانون:
آسٹریلیا کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی کا قانون منظور کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہے جس کے لیے ‘بلینکٹ بین’ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ دسمبر 2025 میں نافذ کیے گئے اس قانون کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، ایکس، ریڈٹ، ٹوئچ اور کِک پر اکاؤنٹ بنانے کی کم از کم عمر 16 سال مقرر کی گئی ہے اور خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں پر بھاری سرمایہ یا جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
A UK student’s reaction is going viral after Prime Minister Keir Starmer said Britain will ban children younger than 16 from using social media.
During a BBC interview, the student revealed her screen time was nine hours over the weekend. When asked how she’d fill all that extra… pic.twitter.com/JolEWaoQDm
— Fox News (@FoxNews) June 15, 2026
پاکستان میں قانون سازی کی کوششیں اور عدالتی احکامات:
پاکستان میں اگرچہ تاحال کوئی باضابطہ قانون سازی نہیں ہوسکی، لیکن یہ معاملہ پارلیمنٹ اور عدالتوں میں زیرِ بحث رہا ہے۔ جون 2025 میں سینیٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی کا بل پیش کیا گیا جو اعتراضات کے باعث اگست 2025 میں واپس لے لیا گیا، جس کے بعد جنوری 2026 میں توجہ دلاؤ نوٹس پر قائم مقام چیئرمین سینیٹ شیری رحمان نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی۔ سینیٹر فلک ناز نے ایک 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا حوالہ دے کر خطرات کی نشاندہی کی، جبکہ شیری رحمان کا مؤقف تھا کہ سوشل میڈیا کے تعلیمی مقاصد کو مدنظر رکھتے ہوئے سینیٹ کو متوازن فیصلہ کرنا چاہیے۔
دوسری جانب، جنوری 2026 میں لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو آسٹریلیا اور دیگر ممالک کی طرز پر بچوں کی حفاظت کے لیے قومی پالیسی وضع کرنے کا حکم دیا تھا۔ فروری 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی ایک 12 سالہ بچے نے اپنے والد اور وکیل کے توسط سے درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے پی ٹی اے اور پیمرا سے کم عمر افراد کی سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے کے اقدامات پر رپورٹ طلب کی تھی، مگر تاحال کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
مزید پڑھیں: 200 روپے مالیت کے پرائز بانڈ کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان، ونرز لسٹ جاری
ایشیائی اور یورپی ممالک کے اقدامات:
پاکستان میں بچوں کی ڈیجیٹل سیفٹی کے اقدامات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن انڈونیشیا مارچ 2026 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ڈیجیٹل پابندیاں نافذ کرنے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا ہے۔ ملائیشیا نے عمر کی تصدیق کے لیے سرکاری شناختی دستاویزات کا استعمال لازمی قرار دیا ہے، جبکہ ترکیہ اور یونان میں اکاؤنٹ بنانے کی کم از کم عمر بالترتیب 15 اور 16 سال مقرر کرنے کی قانون سازی کی گئی ہے۔ فرانس، کینیڈا، ناروے، اسپین، ڈنمارک، جرمنی اور پرتگال میں بھی اس اہم مسئلے پر قانون سازی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
برازیل اور چین کے سخت قوانین:
برازیل نے حال ہی میں نافذ کیے گئے ڈیجیٹل قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کے ‘انفینٹی اسکرولنگ’ اور ‘آٹو پلے’ جیسے عادی بنانے والے فیچرز پر پابندی لگا دی ہے کیونکہ یہ بچوں کے دماغ میں منشیات کی طرح ‘ڈوپامائن’ پیدا کرتے ہیں۔ چین میں پہلے ہی ریاستی سطح پر ‘مائنر موڈ’ نامی سخت ترین فریم ورک موجود ہے، جس کے تحت اسمارٹ فونز اور ایپس میں ایک کلک سے والدین بچوں کی انٹرنیٹ اور مخصوص ایپس تک رسائی مکمل طور پر بلاک کر سکتے ہیں، تاہم والدین چاہیں تو اس وقت کو بڑھا سکتے ہیں یا تعلیمی ایپس کو استثنیٰ دے سکتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا پیرنٹل کنٹرول ماڈل:
متحدہ عرب امارات کا قانون آسٹریلیا کے بلینکٹ بین سے بالکل مختلف ہے؛ یہاں 13 سال سے کم عمر بچے والدین کی تحریری اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کر سکتے ہیں۔ اس قانون میں ‘پیرنٹل کنٹرول’ یعنی خلاف ورزی پر ٹیک کمپنیوں کے ساتھ والدین کو بھی جواب دہ بنایا گیا ہے اور وہاں ‘چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی کونسل’ قائم کی گئی ہے جو وزارتوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال کا شعور بیدار کر رہی ہے۔
Infinite scroll wasn’t designed to help you find information.
It was engineered like a slot machine to make sure you never find a natural place to stop and close the app.
Good UX guides you, bad UX traps you.
What app do you doomscroll most? pic.twitter.com/wnSFBA2dzL
— Bhavya | PM | Design Engineer | Framer Partner (@bhavyapandya07) June 15, 2026
عالمی اداروں کی رپورٹس اور طبی تشویش:
عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ایک رپورٹ کے مطابق تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ سوشل میڈیا کا منفی یا حد سے زیادہ استعمال ڈپریشن، اضطراب، نیند کے مسائل، سائبر بُلنگ اور فحش مواد جیسے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ امریکی سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کے مطابق 11 سے 14 سال کی عمر بچوں کے دماغ کی تبدیلی کی عمر ہوتی ہے اور اس میں سوشل میڈیا کا کثرت سے استعمال بچوں کی پُراعتماد ہونے کی صلاحیت کو ختم کر دیتا ہے، جبکہ امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ نے ایپس پر سگریٹ کی ڈبیوں کی طرح انتباہ لکھنے کی تجویز دی ہے۔ دوسری جانب، یونیسف نے آن لائن استحصال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا ہے کہ صرف پابندی حل نہیں بلکہ پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے محفوظ بنانا زیادہ ضروری ہے۔




