آزاد کشمیر : وکلا برادری مذاکرات کے لیے میدان میں آگئی، 16 رکنی کمیٹی تشکیل

آزاد کشمیر میں جاری سنگین اور کشیدہ حالات کے پیشِ نظر وکلا برادری نے امن و امان کی بحالی اور ڈیڈ لاک ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ آزاد کشمیر بار کونسل نے حکومت اور کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مابین تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

ریاست میں امن و سکون کی واپسی اور فریقین کو میز پر لانے کے لیے وکلا کا یہ اقدام انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ حالیہ پرتشدد واقعات اور کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کے لیے بار کونسل نے انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ خطے کو مزید کسی جانی و مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ احتجاج میں ملک دشمن ایجنڈا بے نقاب، سردار امان نے پاکستان کے خلاف زہر اگل دیا

16 رکنی خصوصی کمیٹی کی راولاکوٹ روانگی:

آزاد کشمیر بار کونسل کی جانب سے تشکیل دی گئی یہ 16 رکنی اعلیٰ سطح کی کمیٹی کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین اور حکومت کے مابین مذاکراتی عمل شروع کرنے کی سنجیدہ کوششیں کرے گی۔ طے شدہ حکمت عملی کے تحت اس خصوصی کمیٹی کے اراکین دارالحکومت مظفرآباد سے راولاکوٹ کے لیے روانہ ہو گئے ہیں جہاں وہ ایکشن کمیٹی کے اہم ارکان سے ملاقاتیں کریں گے۔

کمیٹی کے لیے محفوظ راستے کا مطالبہ:

ذرائع کے مطابق بار کونسل نے ایک مکتوب (خط) کے ذریعے حکومتِ آزاد کشمیر اور ضلعی انتظامیہ سے باقاعدہ طور پر یہ مطالبہ کیا تھا کہ اس 16 رکنی خصوصی مذاکراتی کمیٹی کو راولاکوٹ آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر محفوظ راستہ (Safe Passage) فراہم کیا جائے۔ موجودہ حالات میں سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر انتظامیہ کو اس حوالے سے ضروری اقدامات کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

راجہ ضیغم ایڈووکیٹ کوآرڈینیٹر مقرر:

آزاد کشمیر بار کونسل کی جانب سے اس اہم ترین امن مشن اور مذاکراتی عمل کو منظم کرنے کے لیے صدر سنٹرل بار راجہ ضیغم ایڈووکیٹ کو کمیٹی کا باقاعدہ کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ راجہ ضیغم ایڈووکیٹ کی سربراہی میں یہ کمیٹی حکومت اور کالعدم تحریک کے مطالبات کا جائزہ لے کر ایک متفقہ اور پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گی، جس پر پورے خطے کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔