مسعود پز شکیان

معاہدے کا مقصد امریکہ کے عزم کا امتحان لینا ہے : ایرانی صدر مسعود پزشکیان

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بتایا ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ کے تقریباً تمام ارکان نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے نئے معاہدے کی منظوری دے دی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس معاہدے میں ایران کے فائدے اور حقوق کی حفاظت کیلئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے، جس کی وجہ سے ایران کی آزادی اور مفادات کو اس دستاویز کا خاص حصہ بنایا گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ اس سمجھوتے کا اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ کیا امریکہ سچ مچ ایرانی قوم کے حقوق کی عزت کرنے میں سنجیدہ ہے یا نہیں ۔

پارلیمنٹ کی طرف سے اس کی حمایت اس لیے کی گئی تاکہ عملی طور پر امریکہ کے رویے کا امتحان لیا جا سکے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران معاہدہ پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے،ٹرمپ کی تصدیق

صدر پزیشکیان نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ کئی مہینوں کی سفارتی کوششوں اور مسلسل مذاکرات کا نتیجہ ہے۔ یہ خطے میں جنگ کے خاتمے، کشیدگی کو کم کرنے اور بامعنی بات چیت شروع کرنے کی طرف ایک بڑا قدم ہے ۔

انہوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ ایران ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اگر اس معاہدے کی تمام باتوں پر انصاف کے ساتھ عمل ہوا، تو یہ ایران کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی ۔

ایرانی صدر نے اس معاہدے کو ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتوں کے لیے ایک بڑی سفارتی جیت قرار دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے کی کچھ باتوں پر معمولی اختلافات تھے جنہیں اب حل کر لیا گیا ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا مقصد ایران کے پرامن جوہری پروگرام، معیشت اور قومی سلامتی کا تحفظ ہے، اور ایران اپنی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:معاہدےکا مطلب یہ نہیں کہ ہم جرائم بھول جائینگے یا معاف کردینگے، ایران

واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اس سمجھوتے پر اتفاق ہو چکا ہے، جس پر آنے والے جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی ایک تقریب میں باقاعدہ دستخط کیے جائیں گے ۔ اسی دن سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بھی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے گا ۔