ایران امریکا معاہدہ، مودی کے متعصبانہ ردعمل پر بھارتی شہریوں نے آڑے ہاتھوں لے لیا

بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے ایران امریکا معاہدہ میں ردعمل پر متصبانہ روایہ اپنانے ہوئے پاکستان کا نام لینا گوارہ نہ کیا جس پر بھارتی شہریوں نے ہی نشانے پر رکھ لیا اور آئینہ دکھا دیا کہ یہ جنگ پاکستان نے ثالثی سے ختم کرائی ہے۔

نریندرا مودی کا کہنا تھا کہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان مغربی ایشیا میں تنازعات کے خاتمے کے حوالے سے طے پانے والے مفاہمت کا خیرمقدم کرتا ہوں، جس کی وجہ سے دنیا بھر میں شدید اقتصادی خلل پڑا ہے اور کئی ممالک میں جانی نقصان ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو امید ہے کہ اس مفاہمت پر عمل درآمد سے خطے میں امن و استحکام کی بحالی اور جہاز رانی اور تجارت کی آزادی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

مودی کا کہنا تھا کہ ہم ایک پائیدار حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے بقیہ مسائل پر بات چیت کے منتظر ہیں۔

معروف تجریہ کار اشوک سوائن نے مودی کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ثالث کا کردار ادا کیا اور اس مفاہمت کا اعلان سب سے پہلے شہبازشریف نے کیا نہ کہ ٹرمپ نے,جیسا کہ مئی 2025 میں ہوا تھا۔

ایک اورٹوئٹر صارف نے مودی کی ٹویٹ پر ردعمل میں کہا کہ جنگ میں جانی نقصان کا باعث بنا؟ کیا تم اپنی بات خود سن رہے ہو، بدبخت؟ چند ماہ پہلے ایران میں ہزاروں لوگوں کو جو قتل کیا گیا تھا، اُن کا کیا؟ وہ اس لیے نہیں مرے تھے کہ اب تم جیسے لوگ سستے تیل پر خوشیاں مناؤ۔ تمہیں شرمندگی میں ڈوب جانا چاہیے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ہرمز میں 3 ہندوستانی ملاح مارے گئے کیونکہ مودی نے ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ پاکستان نےایک حقیقی رہنما کی طرح قدم اٹھاتا ہے، جب کہ ہمارے وشو گرو غیر ملکی سیلفیز بنانے میں مصروف ہیں۔

تاریخ کا کمزور ترین وزیراعظم! مودی جی آپ کے ہاتھوں پر ہمارے جوانوں کا خون ہے۔

مودی کو کئی بھارتی صارفین نےآئینہ دکھا یا کہ صرف تیل کیلئے خوشی منا رہے ہو باقی انسانیت سے دور دور تک تہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے۔