میرپور: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی ہڑتال کی کال ناکام، عوام نے ہڑتالی سیاست مسترد کر دی، کاروباری مراکز کھلے

آزاد جموں کشمیر کے صنعتی و معاشی مرکز میرپور اور گرد و نواح میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر تسلی بخش ہے، جہاں عوام نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے دی جانے والی حالیہ احتجاجی اور ہڑتال کی کال سے مکمل بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے اسے بری طرح مسترد کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اتوار کی صبح سے ہی شہر بھر میں تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور دکانیں معمول کے مطابق کھلی ہوئی ہیں اور زندگی کی رونقیں پوری آب و تاب کے ساتھ بحال ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز، عوامی پیغامات اور زمینی شواہد نے اس بات کی واشگاف تصدیق کر دی ہے کہ میرپور کے غیور شہریوں نے ہڑتالی اور احتجاجی سیاست کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اپنے روزمرہ کے امور اور کاروبار کو ترجیح دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولاکوٹ، پولیس کی فلیگ مارچ پارٹی پرکالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی اندھا دھند فائرنگ، 30 سے زیادہ کلاشنکوف کی 7.62 ایم ایم کی گولیاں اے پی سی کو جا لگیں

مقامی انتظامیہ اور عینی شاہدین کے مطابق، میرپور میں پُرانی تاریخوں اور ہڑتالوں کے خوف کو ختم کرنے، امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور شہریوں میں احساسِ تحفظ پیدا کرنے کے لیے اتوار کی صبح ٹھیک 7 بجے میرپور پولیس کی جانب سے پورے شہر میں ایک گرینڈ فلیگ مارچ کیا گیا۔ اس فلیگ مارچ کا بنیادی مقصد قانون شکن اور شرپسند عناصر کو یہ واضح اور سخت پیغام دینا تھا کہ کسی بھی صورت میں ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے گی۔ پولیس کے اس بروقت اور متحرک اقدام کے بعد شہر کی تمام اہم شاہراہوں، چوکوں اور بازاروں میں دکانیں معمول کے مطابق کھل گئیں، لوگ بلا خوف و خطر اپنے دفاتر اور کاروباری مقامات کی طرف رواں دواں دکھائی دیے جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ بھی سڑکوں پر پوری طرح متحرک رہی۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی مختلف ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ میرپور کے شہری بغیر کسی خوف و ڈر کے اپنے روزگار اور تجارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جو اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ امن دشمن عناصر کا بیانیہ اب عوام میں اپنا اثر کھو کر پوری طرح دم توڑ چکا ہے۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مقامی شہریوں اور تاجروں کا کہنا تھا کہ وہ ماضی میں طویل احتجاج اور مسلسل ہڑتالوں کی وجہ سے پہلے ہی شدید معاشی نقصان اٹھا چکے ہیں، اس لیے اب وہ کسی بھی ایسی منفی سرگرمی کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہیں جو ملکی ترقی، عوامی خوشحالی اور خطے کے امن میں رکاوٹ بنے۔

مزید پڑھیں: مہاجرین کی 12 نشستوں پر انتخابات شفاف بنائیں گے: سید نظیر الحسن گیلانی

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں گزشتہ کچھ عرصے سے عوامی ایکشن کمیٹی مختلف مطالبات، بالخصوص بجلی کے بلوں اور آٹے پر سبسڈیز (رعایت) کے حوالے سے احتجاجی تحریک چلا رہی تھی۔ ابتدا میں ان عوامی مسائل پر ہمدردی حاصل کرنے کے بعد، اس کمیٹی کے چند دھڑوں نے پُرامن احتجاج کا دائرہ چھوڑ کر ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا اور امن و امان کو سبوتاژ کرنا شروع کیا، جس کے بعد حکومت نے پبلک سیفٹی اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اس تنظیم کو باقاعدہ ‘کالعدم’ قرار دے دیا تھا۔ چونکہ میرپور آزاد کشمیر کا ایک بہت بڑا معاشی اور صنعتی مرکز ہے، اس لیے یہاں طویل لاک ڈاؤن یا ہڑتالوں سے روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا تھا، لیکن اتوار کا دن ہونے کے باوجود صبح 7 بجے سے ہی شہر کا کھل جانا اور پولیس کا الرٹ ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتظامیہ اور عوام اب خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک صفحے پر آ چکے ہیں۔