آزاد جموں کشمیر کے ضلع راولاکوٹ میں امن و امان کی صورتحال اس وقت انتہائی کشیدہ ہو گئی جب کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر نے معمول کے گشت پر مامور پولیس کی فلیگ مارچ پارٹی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس بزدلانہ حملے میں پولیس کی بکتر بند گاڑی کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا، تاہم خوش قسمتی سے بکتر بند گاڑی کی مضبوطی کے باعث کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور گاڑی میں سوار تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے، البتہ گولیوں کی بوچھاڑ سے گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اور مقامی انتظامیہ کے مطابق راولاکوٹ میں امن و امان کو برقرار رکھنے اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے پولیس کی ایک فلیگ مارچ پارٹی معمول کے مطابق گشت کر رہی تھی۔ جیسے ہی یہ سیکیورٹی قافلہ عیدگاہ کے قریبی علاقے میں پہنچا، وہاں پہلے سے گھات لگائے بیٹھے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں نے اچانک پولیس پارٹی پر خودکار ہتھیاروں اور کلاشنکوفوں سے فائر کھول دیا۔ حملہ آوروں نے پولیس کی بکتر بند ‘ایل ڈی جی، اے پی سی’ (آرمرڈ پرسنل کیریئر) گاڑی پر کلاشنکوف کی 7.62 ایم ایم کی 30 سے زیادہ گولیاں برسا دیں، جس کے نتیجے میں متعدد گولیاں گاڑی کے پچھلے دونوں ٹائروں میں جا پیوست ہوئیں اور وہ پھٹ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: میرپور پولیس کا شہر بھر میں فلیگ مارچ،مارکیٹیں کھلی رہیں
واضح رہے کہ راولاکوٹ اور گرد و نواح کے اضلاع میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے حالیہ دنوں میں ہڑتال اور احتجاج کی کالز دی گئی تھیں۔ میرپور جیسے صنعتی شہروں میں جہاں عوام نے اس کال کو مکمل طور پر مسترد کر دیا اور وہاں زندگی معمول کے مطابق بحال رہی، وہیں راولاکوٹ جیسے چند مخصوص پہاڑی اور دور دراز اضلاع میں شرپسند عناصر کی جانب سے اب بھی امن و امان کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق پولیس پر حملے کے لیے کلاشنکوف کے 7.62 ایم ایم بور کے ہتھیاروں کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ محض ایک عام عوامی احتجاج نہیں ہے، بلکہ پُرامن تحریک کی آڑ میں کچھ عناصر باقاعدہ عسکری یا نیم عسکری طرز پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ تاہم ‘ایل ڈی جی، اے پی سی’ کی مضبوط بناوٹ کی وجہ سے گولیوں کا اثر اندر بیٹھے اہلکاروں تک نہیں پہنچ سکا اور وہ محفوظ رہے۔




