سونے کی قیمتیں آسمان پر!تاریخی اور پرانی لگژری گھڑیاں بھٹیوں میں پگھلائی جانے لگیں

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ہونے والے حالیہ غیر معمولی اور ریکارڈ ساز اضافے نے لگژری واچ مارکیٹ میں ایک انوکھا، حیران کن اور کسی حد تک تشویشناک رجحان پیدا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ بلند ترین سطح پر پہنچنے کے باعث بعض کلاسک اور پرانی سونے کی گھڑیوں کی دھاتی مالیت ان کی بطورِ گھڑی مارکیٹ قیمت سے زیادہ ہو گئی ہے، جس کے باعث یہ نایاب گھڑیاں اب بھٹیوں کی نذر ہونے لگی ہیں۔

اس انوکھے معاشی بدلاؤ نے دنیا بھر کے واچ کلیکٹرز، ڈیلرز اور تاجروں کو ایک بالکل نئی بحث میں الجھا دیا ہے، جہاں اب پرانی گھڑیوں کے فن اور خالص سونے کے منافع کے درمیان ایک بڑی جنگ چھڑ چکی ہے۔

تاریخی گھڑیاں پگھلانے کا رجحان اور اس کی معاشی وجہ:

اس صورتحال کے نتیجے میں کئی بین الاقوامی ڈیلرز اور سرمایہ کار ان قیمتی گھڑیوں کو نیلام کرنے یا فروخت کرنے کے بجائے پگھلا کر ان میں سے خالص سونا نکال رہے ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی ایک جامع رپورٹ کے مطابق، اس رجحان نے کلاسک گھڑیوں کی فروخت کا پورا منظرنامہ بدل کر رکھ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونا عوام کی پہنچ سے دور، قیمت میں آج پھر بڑا اضافہ

برطانوی واچ ڈیلر جون وائٹ نے حال ہی میں ایک مروجہ مثال قائم کرتے ہوئے 1970 کی دہائی کی ایک نایاب سونے کی ’اومیگا کانسٹیلیشن‘ گھڑی کو بھٹی میں پگھلا دیا۔ اس اقدام کی معاشی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ اس مخصوص گھڑی میں موجود خالص سونے کی دھاتی قیمت تقریباً 5,750 برطانوی پاؤنڈ بن رہی تھی، جبکہ اگر اس گھڑی کو اصل حالت میں کسی نیلامی میں پیش کیا جاتا تو اس کی متوقع قیمت محض 4,000 سے 4,500 پاؤنڈ کے درمیان ملنے کی توقع تھی۔

درمیانی لگژری برانڈز نشانے پر، رولیکس اور پیٹیک فلپ محفوظ:

واچ انڈسٹری کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیگا، ٹیگ ہیور اور ان جیسے دیگر درمیانی درجے کے لگژری برانڈز کی سونے کی گھڑیاں اس پگھلانے کے رجحان سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، کیونکہ ان کی ری سیل ویلیو صرف برانڈ نیم پر اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس، رولیکس، پیٹیک فلپ اور آڈیمارس پیگے جیسے انتہائی اعلیٰ اور اشرافیہ برانڈز کی ونٹیج گھڑیاں اپنی نایابی، اسٹرٹیجک طلب اور کلیکٹرز کی دیوانگی کے باعث اب بھی محفوظ ہیں۔ ان برانڈز کی گھڑیاں پگھلانے کے بجائے کلیکٹرز مارکیٹ میں سونے کی قیمت سے کئی گنا زیادہ مہنگی فروخت ہوتی ہیں۔

دوسری جانب، تاریخی اور کلاسک گھڑیوں کے ماہرین اور مورخین نے اس رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’ثقافتی اور فنی نقصان‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گھڑیاں محض دھات کا ٹکڑا نہیں بلکہ انسانی تاریخ، مائیکرو انجینئرنگ اور آرٹ کا شاہکار ہیں۔ ایک بار جب یہ گھڑی پگھل جاتی ہے، تو اس کی تاریخی اور فنی اہمیت ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتی ہے۔ تاہم سرمایہ کاروں کا مؤقف ہے کہ سرمایہ کاری کا بنیادی اصول زیادہ سے زیادہ منافع کمانا ہے، اور جب سونا گھڑی سے زیادہ مہنگا ہو جائے تو اسے پگھلانا ہی منطقی فیصلہ ہے۔

عالمی معاشی حالات اور گھڑیوں میں سونے کا تاریخی استعمال:

عالمی افراطِ زر، جیو پولیٹیکل تناؤ اور مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی بڑے پیمانے پر خریداری کے باعث سونے کی فی اونس قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہیں، کیونکہ سونا ہمیشہ سے معاشی بحرانوں میں ایک ’محفوظ پناہ گاہ‘ سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سونا فی تولہ سونا 12 ہزار 627 روپے سستا ہو گیا!

واضح رہے کہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں لگژری گھڑیاں بنانے والی کمپنیوں نے یکساں طور پر 18 کیرٹ (75% خالص سونا) یا 14 کیرٹ سونے کے بھاری کیسز اور چین تیار کیے۔ اس دور میں سونے کی قیمتیں کم تھیں، اس لیے تمام فوکس گھڑی کی خوبصورتی پر تھا، مگر اب وہی سونا گھڑیوں کے وجود کے لیے خطرہ بن گیا ہے۔