خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے خوفناک واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 7 افراد جاں بحق جبکہ 33 زخمی ہو گئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے کے متعدد اضلاع میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس ناگہانی موسمی صورتحال نے جہاں صوبے کے کئی خاندانوں کو سوگوار کر دیا ہے، وہاں بالائی اضلاع میں گلیشیئرز پگھلنے کے باعث سیلابی خطرات نے انتظامیہ اور شہریوں کے لیے ایک نئی تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔
صوبے میں جانی و مالی نقصانات کی تفصیلی صورتحال:
پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے 13 جون 2026 کو جاری کردہ نقصانات کی رپورٹ کے مطابق، تیز آندھی، آسمانی بجلی اور موصلادھار بارشوں کے باعث گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے کے زیادہ تر حادثات بنوں، شانگلہ اور مانسہرہ کے اضلاع میں پیش آئے۔ ان افسوسناک واقعات میں جانی نقصانات کا ریکارڈ سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پی ڈی ایم اے کا متعدد اضلاع میں آندھی اور بارش کا الرٹ جاری
رپورٹ کے مطابق، مجموعی طور پر جاں بحق ہونے والے 7 افراد میں 2 بچے، 4 مرد اور 1 خاتون شامل ہیں۔ دوسری جانب، مختلف حادثات میں زخمی ہونے والے 33 افراد میں 7 مرد، 12 خواتین اور 14 بچے شامل ہیں، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ اس وقت پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ ادارے آپس میں قریبی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تندہی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں مزید تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت سمیت امدادی سامان فراہم کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔
گلیشیئرز پگھلنے کی وارننگ اور انتظامیہ کو ہائی الرٹ جاری:
دوسری جانب، پی ڈی ایم اے نے ایک انتہائی اہم الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں شدید گرمی اور حالیہ بارشوں کے یکجا ہونے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس عمل سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF) اور فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کا خطرہ انتہائی حد تک بڑھ گیا ہے۔ موسمیاتی خطرات کے پیشِ نظر، حکام نے چترال، دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے تمام حساس مقامات کی نگرانی فوری طور پر بڑھانے کا حکم دیا ہے۔
حکام کی جانب سے عوام الناس کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریا کے کناروں، برساتی نالوں اور تیز بہاؤ والے مقامات سے دور رہیں۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ صورتحال میں بلاوجہ سفر کرنے سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے جاری کردہ الرٹس اور ایڈوائزری پر مکمل عمل کریں۔ ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے کا ایمرجنسی آپریشن سنٹر مکمل طور پر فعال ہے، اور عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع یا موسمی صورتحال سے آگہی کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔




