آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجا آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کو ریاست کے خلاف بغاوت اور غداری کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے فوری ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق دیگر مکاتبِ فکر کے بعد اب وکلا برادری نے بھی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کو یکسر غلط قرار دیتے ہوئے ریاست میں امن و امان کی بحالی اور قانون کی عملداری کو یقینی بنانے پر بھرپور زور دیا ہے۔
راجا آفتاب احمد ایڈووکیٹ کا اصولی مؤقف اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ:
آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجا آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے اپنے جاری کردہ تفصیلی بیان میں واضح طور پر کہا ہے کہ ریاست کا امن تباہ کرنے میں ملوث عناصر فوری طور پر اپنے ہتھیار ڈال دیں اور خود کو قانون کے حوالے کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلح حملوں، سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچانے اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع میں ملوث تمام افراد کو ہر صورت قانون کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: رانا ثناء اللہ نے کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی پر سنگین الزامات عائد کر دئیے
راجا آفتاب احمد ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں باقاعدہ اعلان کیا کہ آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ایسے افراد کو آزاد کشمیر کی عدالتوں میں قانونی معاونت فراہم کرے گی، بشرطیکہ وہ خود کو قانون کے حوالے کریں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ ریاست کے خلاف برسرِ پیکار اور ریاستی عملداری کو براہِ راست چیلنج کرنے والے عناصر معصوم انسانی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، جبکہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند اس وقت سنگین جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مذکورہ عمل کو سنگین ترین جرم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ غداری کے مترادف ہے۔
ماہرینِ قانون کی رائے اور عوامی ایکشن کمیٹی کے اقدامات کا تجزیہ:
دوسری جانب، اس تمام صورتحال پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا یہ حالیہ اور دوٹوک بیان کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔ وکلا برادری کی جانب سے ریاستی عملداری کو یقینی بنانے اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے پر مسلسل اصرار کیا جا رہا ہے تاکہ امن قائم ہو سکے۔
مزید پڑھیں: ممبران کالعدم ایکشن کمیٹی ،فعال کارکنوں کیخلاف کارروائی ،نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تیاریاں
ماہرین کے مطابق، وکلا کی جانب سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اس پورے عمل کو بغاوت قرار دینا اس بات کی واضح عکاسی کرتا ہے کہ یہ عناصر غلط راہ پر گامزن ہیں۔ دیگر مکاتبِ فکر کی طرح وکلا نے بھی ریاست میں امن و امان کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ ریاستی قوانین کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ سنگین کارروائیاں ملک اور عوام کے مفاد کے خلاف ہیں۔




