وفاقی حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) میں بھی بڑا ردوبدل کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول پر لیوی میں نمایاں کمی کر کے صارفین کو اضافی ریلیف فراہم کیا گیا ہے جبکہ ڈیزل پر لیوی کی شرح میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے مہنگائی کے مارے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک اور بڑا تادیبی قدم اٹھایا ہے۔ پیٹرول کی بنیادی قیمتوں میں کمی کے بعد اب پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) میں بھی نمایاں ردوبدل کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے پیٹرول پر عائد لیوی میں 9 روپے 24 پیسے فی لیٹر کی بڑی کمی کر دی ہے، جس کے بعد پیٹرول پر لیوی 116 روپے 8 پیسے سے کم ہو کر 106 روپے 24 پیسے فی لیٹر کی سطح پر آ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد پیٹرول استعمال کرنے والے صارفین کو براہِ راست اور اضافی ریلیف فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے بعد مٹی کا تیل مہنگا ہو گیا
ڈیزل پر لیوی میں اضافہ اور دیگر مصنوعات کی صورتحال:
دوسری جانب، حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کے صارفین پر بوجھ بڑھاتے ہوئے اس پر عائد لیوی میں 8 روپے 67 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ڈیزل پر لیوی 44 روپے 59 پیسے سے بڑھ کر 53 روپے 26 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، دیگر پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور وہ پرانی سطح پر برقرار ہیں۔ نئے شیڈول کے تحت ہائی اوکٹین پر لیوی 305 روپے 37 پیسے فی لیٹر، فرنس آئل پر 77 روپے فی لیٹر، مٹی کے تیل پر 20 روپے 36 پیسے فی لیٹر جبکہ لائٹ ڈیزل پر لیوی 15 روپے 84 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گی۔
معاشی ماہرین کا تجزیہ اور عوامی اثرات:
حکومت کے اس فیصلے پر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرول پر لیوی کم ہونے سے ملک کے مڈل کلاس طبقے، خصوصاً موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو براہِ راست بڑا معاشی ریلیف ملے گا۔ تاہم، دوسری طرف ڈیزل پر لیوی میں اضافے کے باعث مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جو بالواسطہ طور پر زرعی شعبے اور عام اشیاء کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر حکومت کے اس اقدام کو عوامی ریلیف اور ملکی مالیاتی توازن کو برقرار رکھنے کی ایک درمیانی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔



