ڈڈیال پولیس کی بڑی کارروائی: احتجاج میں شامل مہران خواجہ اور ناظم کشمیری سمیت 1200 افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج

ڈڈیال ( کشمیر ڈیجیٹل) ڈڈیال پولیس نے مبینہ طور پر احتجاج میں شامل افراد کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئے مہران خواجہ اور ناظم کشمیری سمیت متعدد نامزد اور سینکڑوں نا معلوم افراد کے خلاف سنگین نوعیت کا مقدمہ درج کر لیا ہے ۔

ایف آئی آر کے مطابق احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف انسدادِ دہشت گردی اور بغاوت سمیت متعدد دفعات کے تحت کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے ۔ مقدمے میں شامل کی جانے والی اہم دفعات اور ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں :

دفعہ 147: فساد (Riot)
دفعہ 148: مہلک ہتھیار کے ساتھ فساد برپا کرنا
دفعہ 149: مشترکہ ذمہ داری یا جرم میں برابر کی شرکت (Unlawful Assembly)
دفعہ 188: حکومتی حکم کی خلاف ورزی کرنا
دفعہ 505: عوام میں خوف، ہراس اور انتشار پھیلانا
دفعہ 341: غیر قانونی طور پر راستہ روکنا یا رکاوٹ ڈالنا
دفعہ 124A: ریاست کے خلاف بغاوت (Sedition)
6 ATA: انسدادِ دہشت گردی ایکٹ (Anti-Terrorism Act) کی دفعہ

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ دفعات کے تحت ملزمان کی ضمانت ممکن ہو جاتی ہے لیکن دفعہ 124A (بغاوت) اور خاص طور پر 6 ATA (انسدادِ دہشت گردی) کے تحت درج مقدمات میں ملزمان کے لیے ضمانت حاصل کرنا انتہائی مشکل اور نا ممکن ہوتا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اسلام گڑھ ،چکسواری اور میر پور میں صورتحال مکمل کنٹرول میں، 15مظاہرین گرفتار

پولیس ذرائع کے مطابق، اس مقدمے میں اس وقت تقریباً 1000 سے 1200 افراد کو شامل کیا گیا ہے ۔ پولیس حکام کا مزید کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف ویڈیوز اور دستاویزی شواہد کی مدد سے دیگر ملوث افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، اور جیسے جیسے شناخت ہوتی جائے گی، مزید نام بھی اس مقدمے میں آہستہ آہستہ شامل کیے جائیں گے ۔