وفاقی حکومت کا آئندہ بجٹ میں عوام،کاروباری برادری کو ریلیف دینے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عوام، طالب علموں، تنخواہ دار طبقے اور کاروباری برادری کے شدید دباؤ کے بعد مالی سال 2026-27 کے آئندہ وفاقی بجٹ میں متعدد اہم شعبوں کو بھاری ٹیکسوں سے چھوٹ دینے اور بڑے معاشی ریلیف کی فراہمی کے لیے اہم ورکنگ مکمل کر لی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے گرین انرجی (شمسی توانائی)، تعلیمی شعبے اور کیپیٹل مارکیٹ (اسٹاک ایکسچینج) پر مجوزہ ٹیکس اقدامات واپس لینے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ان شعبوں پر عائد ٹیکسوں میں آئندہ بجٹ میں کسی قسم کی تبدیلی یا اضافہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ دوسری جانب پسے ہوئے تنخواہ دار طبقے اور ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے اربوں روپے کے بڑے ٹیکس ریلیف کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔ ان تمام تجاویز پر وزیراعظم شہباز شریف کو بھی تفصیلی بریفنگ دی جا چکی ہے اور اب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے حتمی منظوری کا انتظار ہے۔

تعلیمی شعبے، شمسی توانائی اور کیپیٹل مارکیٹ پر مجوزہ ٹیکس اقدامات واپس لینے کی منظوری

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے عوام، طالب علموں اور کاروباری برادری کے شدید دباؤ کے بعد مالی سال 2026-27 کے آئندہ وفاقی بجٹ میں متعدد اہم شعبوں کو بھاری ٹیکسوں سے چھوٹ دینے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے گرین انرجی (شمسی توانائی)، تعلیمی شعبے اور کیپیٹل مارکیٹ (اسٹاک ایکسچینج) پر مجوزہ ٹیکس اقدامات واپس لینے کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ان شعبوں پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی یا اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت مہنگائی کے مارے عوام اور طلبہ کے لیے ایک اور بڑی راحت کے طور پر کاپیوں، پنسلوں اور دیگر اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز اب آئندہ بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی، جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے یکم جولائی 2026 سے اسٹاک مارکیٹ پر نافذ موجودہ ٹیکسوں میں بھی کوئی ردوبدل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کیپیٹل مارکیٹ میں استحکام برقرار رہے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے صوبوں کو ترقیاتی پروگرام میں کٹوتی پر منالیا،بجٹ منظوری کی راہ ہموار

سولر پینلز اور اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی تجویز مسترد

بجٹ کی تیاری کے دوران سولر پینلز پر سیلز ٹیکس کی شرح کو موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی جو سخت تجویز زیرِ غور تھی، اسے شدید عوامی ردِعمل اور متبادل توانائی کے فروغ کے پیشِ نظر مکمل طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔ اسی طرح مہنگائی کے مارے عوام کے لیے ایک اور بڑی راحت کے تحت کاپیوں, پنسلوں اور دیگر اسٹیشنری اشیا پر سیلز ٹیکس میں اضافے کی مجوزہ تجویز بھی آئندہ بجٹ کا حصہ نہیں بنے گی۔ اس کے علاوہ، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے یکم جولائی 2026 سے اسٹاک مارکیٹ پر نافذ موجودہ ٹیکسوں میں بھی کوئی ردوبدل نہیں کیا جائے گا، جس سے کیپیٹل مارکیٹ میں استحکام متوقع ہے۔

توانائی بحران، مہنگی بجلی اور سولر پینلز کی مارکیٹ صورتحال

واضح رہے کہ پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران اور بجلی کے بھاری ٹیرف کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ 2 سالوں میں ملک کے اندر سولر پینلز کی درآمد اور تنصیب میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عام صارفین اور چھوٹی صنعتوں نے گرڈ کی مہنگی بجلی سے بچنے کے لیے بڑے پیمانے پر سولر کا رخ کیا ہے۔ ایسے میں آئی ایم ایف کے دباؤ پر سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی افواہوں نے مارکیٹ میں شدید بے چینی پیدا کر دی تھی اور سولر کی قیمتیں پہلے ہی بڑھنا شروع ہو گئی تھیں، تاہم اب حکومت نے یہ تجویز مسترد کر دی ہے۔ اسی طرح اسٹیشنری پر ٹیکس کا معاملہ بھی حساس تھا کیونکہ کاغذی اشیا کی قیمتیں پہلے ہی ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہیں، جس سے بچوں کو اسکولوں سے اٹھائے جانے کا رجحان بڑھ رہا تھا، جس کی وجہ سے اس ٹیکس کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف اور سلیبز کی تفصیلات

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ماہانہ 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے تنخواہ لینے والوں کو ٹیکس میں بڑا ریلیف دینے کے لیے تجاویز تیار کی گئی ہیں۔ انکم ٹیکس کی شرح میں کمی اور 1 کروڑ روپے یا اس سے زائد سالانہ تنخواہ پر عائد 10 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، جبکہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو معاشی ریلیف فراہم کرنے کے لیے 3 مختلف تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی گئی ہیں، جس پر ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان حتمی ریلیف کی منظوری جلد ہی متوقع ہے۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو 3 فیصد، 5 فیصد اور 10 فیصد ریلیف کے لیے تیار کی گئی ورکنگ شیئر کی گئی ہے۔ ان سلیبز کے مطابق آئندہ بجٹ میں سالانہ 12 لاکھ، 22 لاکھ اور 32 لاکھ روپے تک تنخواہ وصول کرنے والے ملازمین کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کو بالترتیب 3 فیصد، 5 فیصد یا 10 فیصد تک کم کرنے کی اہم تجویز آئی ایم ایف کو بھجوائی گئی ہے۔ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے سب سے بلند انکم ٹیکس سلیب کی حد میں اضافہ کیے جانے کا بھی قوی امکان ہے، جس سے اعلیٰ آمدن والے پیشہ ور افراد کا ٹیکس بوجھ کم ہو جائے گا۔

ٹیکس سلیبز میں تبدیلیاں اور سرچارج کا خاتمہ

موجودہ ٹیکس ڈھانچے کے مطابق چھٹی اور آخری سلیب، جس میں 41 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ وصول کرنے والے افراد شامل ہیں، اس کی حد کو بڑھا کر 70 لاکھ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ اس کے علاوہ ایک نئی سلیب 1 کروڑ روپے یا اس سے زائد سالانہ تنخواہ وصول کرنے والوں کے لیے متعارف کرائی جائے گی۔ واضح رہے کہ 1 کروڑ روپے یا اس سے زائد سالانہ آمدنی والے افراد پر اس وقت 10 فیصد سرچارج بھی عائد ہے، جس کو آئندہ بجٹ میں مکمل ختم کرنے کی ورکنگ ایف بی آر نے تیار کی ہے۔ تاہم، اگر آئی ایم ایف نے سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی منظوری نہ دی، تو اسے کم کر کے 5 فیصد تک برقرار رکھنے کی متبادل تجویز بھی زیر غور ہے۔ ملک بھر میں ماہانہ 2 لاکھ سے 3 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرنے والے ملازمین کی کل تعداد تقریباً ساڑھے 5 لاکھ تک ہے، جن کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں براہ راست ریلیف دینے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، 41 لاکھ روپے یا اس سے زائد سالانہ تنخواہ وصول کرنے والے تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد کے لیے نافذ العمل 35 فیصد انکم ٹیکس کی بلند شرح میں بھی واضح کمی لانے کے لیے ورکنگ مکمل کر لی گئی ہے۔

ایکسپورٹرز کے لیے 60 ارب روپے کا بڑا ریلیف پیکیج

صنعتی شعبے کو متحرک کرنے اور ملکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے بھی بجٹ میں بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں برآمدکنندگان (ایکسپورٹرز) پر ریلیف پیکیج کے تحت عائد 1 فیصد ایڈوانس ایکسپورٹ ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کے اس بڑے معاشی اقدام کے نتیجے میں ملک بھر کے ایکسپورٹرز کو آئندہ وفاقی بجٹ میں 60 ارب روپے تک کا خطیر ٹیکس ریلیف ملنے کا قوی امکان ہے، جس سے ملکی برآمدی صنعت کو نئی زندگی ملنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔ ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ تقریر کے دوران برآمدی شعبے کے لیے ان خصوصی مراعات کا باقاعدہ اعلان کر سکتی ہے۔

1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کا تنازع اور متبادل تجاویز

یاد رہے کہ فنانس ایکٹ 2024 کے تحت برآمد کنندگان کو سہل ’فائنل ٹیکس رجیم‘ سے نکال کر پیچیدہ ’نارمل ٹیکس رجیم‘ میں منتقل کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کی جگہ برآمدی آمدن پر کم از کم 2 فیصد ٹیکس لاگو کر دیا گیا تھا، جس میں 1 فیصد کم از کم ٹیکس اور 1 فیصد ایڈوانس ٹیکس شامل ہے۔ فنانس ایکٹ 2024 میں ایکسپورٹرز کے لیے ’فائنل ٹیکس رجیم‘ کا خاتمہ ملکی تاریخ کا ایک متنازع معاشی فیصلہ ثابت ہوا تھا۔ ٹیکسٹائل اور دیگر بڑے برآمدی شعبوں کا مؤقف تھا کہ نارمل ٹیکس رجیم میں آنے سے ان کا سرمایہ ایف بی آر کے ریفنڈز سسٹم میں پھنس جاتا ہے، جس سے ان کے پاس خام مال خریدنے کے لیے نقد رقم ختم ہو جاتی ہے اور وہ عالمی منڈی میں بھارت اور بنگلہ دیش کا مقابلہ نہیں کر پاتے۔ مینوفیکچررز کا ہمیشہ سے یہ گلہ رہا ہے کہ نارمل ٹیکس میں منتقل کرنے کا مقصد ان کی آمدنی پر ٹیکس لگانا نہیں بلکہ ایف بی آر کے فیلڈ افسران کو ان کے کھاتے چیک کرنے اور ہراساں کرنے کا لائسنس دینا ہے، جس کی وجہ سے ملک کا ایکسپورٹ حجم گر رہا تھا۔

صنعت کاروں کے مطالبات اور خصوصی کمیٹی کی تجویز

اس صورتحال پر صنعتی و برآمدی حلقوں نے حکومت کو متبادل تجاویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم کو 1 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے ساتھ اختیاری بنیادوں پر بحال کیا جائے، سیلز ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی یقینی بنائی جائے اور عالمی منڈی میں خسارے کا سامنا کرنے والے برآمد کنندگان کو مناسب ٹیکس ریلیف فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ، نارمل ٹیکس رجیم میں رہنے والے صنعت کاروں کو ایف بی آر کی غیر ضروری کارروائیوں اور آڈٹ کے نام پر ہراساں کیے جانے سے تحفظ دینے کے لیے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ فیلڈ افسران کی مداخلت کو روکا جا سکے اور برآمدی حجم کو مزید گرنے سے بچایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: پی پی کا ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصد اضافے کا مطالبہ،بجٹ کاشیڈول تبدیل