ہمارے معاشرے میں غذا کے حوالے سے کئی اقسام کی افواہیں اور غلط فہمیاں زیرِ گردش رہتی ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتااورجن سے متعلق صحیح معلومات کاہونا بہت ضروری ہے۔
اس حوالے سے ماہرِ غذائیت حاجرہ سلیم نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ان تمام غذائی افواہوں کی سائنسی حقیقت بیان کی ہے اور اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے ان تمام غذائی افواہوں کی حقیقت واضح کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر باتوں کا سائنسی بنیادوں سے کوئی تعلق نہیں، گرمیوں میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سب سے اہم چیز مناسب مقدار میں پانی پینا ہے۔
تربوز اور کھیرے کے بعد پانی پینے کا تاثر:
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تربوز یا کھیرے کے بعد پانی پینے یا لسی استعمال کرنے سے فوڈ پوائزننگ ہو جاتی ہے، تاہم ماہرِ غذائیت نے اس تاثر کو بالکل غلط قرار دیا ہے۔ حاجرہ سلیم کے مطابق تربوز میں پہلے ہی 70 سے 80 فیصد پانی موجود ہوتا ہے، اس لیے اس کے بعد پانی پینے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ فوڈ پوائزننگ کی اصل وجہ غیر صاف پھل، خراب حفظانِ صحت یا آلودہ پانی ہوتا ہے، نہ کہ تربوز یا کھیرے کے بعد پانی پینا، کیونکہ اس تصور کی کوئی سائنسی حقیقت نہیں ہے۔ اگر پانی صاف نہ ہو تو بیماری ہو سکتی ہے، لیکن اس کا الزام پھل یا سبزی پر ڈال دینا درست نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شدید گرمی، ہیٹ ویو کا الرٹ، قومی ادارہ صحت کی اہم ایڈوائزری جاری
مچھلی کے ساتھ دودھ اور گرم سرد کا تصور:
ماہرِ غذائیت نے مچھلی کے ساتھ دودھ پینے سے جلدی بیماری یا “برص” ہونے کے تاثر کو بھی مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیا۔ ان کے مطابق مچھلی بہترین پروٹین ہے اور دنیا بھر میں مچھلی کو دودھ یا دہی سے بنی ساسز کے ساتھ شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے واضح کیا کہ گرم اور ٹھنڈی چیزیں ایک ساتھ کھانے سے بھی جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، کیونکہ معدے میں پہنچنے کے بعد تمام غذا کا درجہ حرارت خود بخود معمول پر آجاتا ہے۔
کھانے کے بعد پانی اور چائے کا استعمال:
کھانے کے فوراً بعد پانی پینے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ایسی کوئی مستند سائنسی دلیل موجود نہیں جس میں کھانے کے بعد پانی پینے سے منع کیا گیا ہو، پانی کو کھانے سے پہلے، دوران یا بعد میں کسی بھی وقت پیا جا سکتا ہے۔ کھانے کے بعد چائے پینے کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ایک یا دو کپ چائے پینے سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوتا، البتہ بہت زیادہ چائے پینے سے جسم میں ڈی ہائیڈریشن کی شکایت ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیں: آم کھانے سے پہلے پانی میں بھگو کر رکھنا کیوں ضروری ہے؟ اصل وجہ سامنے آ گئی
گرمیوں میں پانی کی ضرورت، سوڈا اور چینی کی حد:
حاجرہ سلیم نے بتایا کہ گرمیوں میں جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے سب سے اہم چیز مناسب مقدار میں پانی پینا ہے، جس کے لیے روزانہ 8 سے 12 گلاس پانی، پانی سے بھرپور پھل اور دہی جیسی غذائیں بہترین ہیں جو منرلز کی کمی پوری کرتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کبھی کبھار سوڈا پینا نقصان دہ نہیں، تاہم روزانہ کولڈ ڈرنکس کا استعمال اضافی چینی اور کیلوریز کا باعث بنتا ہے۔ چینی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ اسے مکمل ترک کرنا ضروری نہیں بلکہ اعتدال اہم ہے۔ عالمی اداروں کے مطابق ایک دن میں تقریباً 6 چمچ چینی کی حد مقرر ہے، جبکہ صرف 250 ملی لیٹر جوس یا کولڈ ڈرنک میں ہی اتنی چینی موجود ہوتی ہے۔



