weather

ملک بھر میں شدید گرمی، ہیٹ ویو کا الرٹ، قومی ادارہ صحت کی اہم ایڈوائزری جاری

اسلام آباد: ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر، قومی ادارہ صحت نے ہیٹ ویو اور سن سٹروک سے بچاؤ کیلئے ایڈوائزری جاری کر دی۔

ایڈوائزری کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان میں شدید گرمی کی لہروں میں اضافہ ہوا، متعلقہ اداروں کو ہیٹ سٹروک سے نمٹنے کیلئے تیاری مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گرمی کی شدت:ملک میں 11 جون سے بارشوں کا نیاسپیل داخل

قومی ادارہ صحت کے مطابق ہر سال ہیٹ ویو کے اثرات اور خطرات بڑھ رہے ہیں، ہیٹ سٹروک سے بیماریوں اور اموات میں اضافے کا خدشہ ہے، ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کیلئے فوری احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ایڈوائزری کے مطابق شہری براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں، جسم میں پانی کی کمی پوری رکھنا ہیٹ سٹروک سے بچاؤ کیلئے لازم ہے، شہری گرم مرطوب موسم میں زیادہ پانی اور نمکیات والی غذا کھائیں۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق شدید گرمی میں سر ڈھانپنے اور ہلکے رنگ کے ملبوسات استعمال کرنے کا اہتمام کیا جائے، عوام احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ ہیٹ سٹروک کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہ سکیں۔

ایڈوائزری کے مطابق ہیٹ ویو اور سن سٹروک کی مکمل ایڈوائزری قومی ادارہ صحت ویب سائٹ پر دستیاب ہے، شدید گرمی میں جسم کا درجہ حرارت 106°F تک جا سکتا ہے، ہیٹ سٹروک جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق چکر، الٹی، دھندلا نظر آنا، پسینہ بند ہو جانا، ہیٹ سٹروک کی اہم علامات ہیں، ہیٹ سٹروک کی صورت میں مریض سایہ میں لائیں، کپڑے ڈھیلے کریں، ٹھنڈا پانی اسپنج کریں۔

ایڈوائزری کے مطابق دوپہر 11 سے 4 بجے دھوپ سے بچیں اور 3 سے 4 لٹر پانی روزانہ پئیں، بزرگ، بچے، حاملہ خواتین، مریض اور آؤٹ ڈور ورکرز زیادہ احتیاط کریں۔

یہ بھی پڑھیں: این ڈی ایم اے کا ملک بھر میں موسمی الرٹ جاری، شدید گرمی، گلیشیئرز پگھلنے اور سیلاب کا خدشہ

قومی ادارہ صحت کے مطابق چائے، کافی سے پرہیز کریں، یہ جسم میں پانی کی کمی بڑھاتے ہیں، این آئی ایچ نے تمام ہسپتالوں کو ہیٹ سٹروک سینٹرز بنانے کی ہدایت کی ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ باہر کام کرنے والے ہر 30 منٹ بعد وقفہ کریں اور سر ڈھانپ کر نکلیں، ہیٹ سٹروک مریض 10 سے 15 منٹ میں ہسپتال منتقل کریں، تاخیر موت کا سبب بن سکتی ہے۔