پولنگ

گلگت بلتستان انتخابات متنازع بن گئے؟ جے یو آئی (ف) نے انتخابی شفافیت پر سنگین سوال اٹھا دیا

گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے ابتدائی نتائج پر جے یو آئی (ف) نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابی شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما عبدالغفور حیدری نے انتخابات کے نتائج پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فارم 45 سے متعلق سامنے آنے والے تحفظات انتخابی عمل کی شفافیت پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل پر سنگین الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہاں عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی واضح کوشش کی گئی ہے، جو ہمیں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان انتخابات، 19نشستوں کے مکمل نتائج موصول،کئی بڑے برج الٹ گئے

عبدالغفور حیدری کا مزید کہنا تھا کہ بعض حلقوں میں جے یو آئی (ف) کے امیدواروں کی واضح برتری کو شکست میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بقول ملک میں شفاف اور غیر جانبدار انتخابات کے انعقاد کے بغیر عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ انتخابی نتائج سے متعلق تمام تحفظات کو فوری دور کیا جائے اور عوامی مینڈیٹ کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے تاکہ انتخابی عمل کی ساکھ برقرار رہ سکے۔

انتخابی نتائج کی موجودہ صورتحال اور سیاسی مبصرین کا تجزیہ:

دوسری جانب گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات کے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اب تک مجموعی طور پر 24 میں سے 18 نشستوں کے مکمل غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ ان موصولہ نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے، جبکہ 5 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ (ن) اب تک 3 نشستیں حاصل کر چکی ہے جبکہ مجلس وحدت مسلمین صرف ایک نشست جیتنے میں کامیاب رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق باقی بچ جانے والی نشستوں کے نتائج اور ممکنہ انتخابی اعتراضات آئندہ دنوں میں گلگت بلتستان کی مجموعی سیاسی صورتحال پر انتہائی اہم اور دور رس اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بیرون ممالک بیٹھے پی ٹی آئی یوٹیوبرز کو بڑا دھچکا، گلگت بلتستان عوام نے یوتھیا یوٹیوبرز کا بیانیہ اُڑا دیا