اسلام آباد(کشمیرڈیجیٹل) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا ہے کہ آزادکشمیر میں آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے عمل کو متاثر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاہم حکومت کسی بھی غیر آئینی یا غیر جمہوری اقدام کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔
وفاقی دارالحکومت میں مختلف سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزادکشمیر اسمبلی اپنی آئینی مدت مکمل کر چکی ہے اور اب انتخابات کے انعقاد کی جانب پیش رفت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں بعض عناصر کی جانب سے احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے سیاسی ماحول کو کشیدہ بنانے کی کوشش تشویش ناک ہے ۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیشتر مطالبات حکومت نے تسلیم کیے اور ان پر عملدرآمد بھی کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آزادکشمیر میں عوام کو تین روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ آٹے سمیت مختلف اشیائے ضروریہ پر بھی سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات پورے ہو چکے، اب احتجاج نہیں الیکشن لڑیں: سردار ارشد نیازی
وفاقی وزیر کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے کامیاب مذاکرات کے بعد ہونے والے معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد یقینی بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود کمیٹی نے دوبارہ احتجاج کی کال دے کر صورتحال کو خراب کرنے کی کوشش کی ۔
انہوں نے کہا کہ کمیٹی کی جانب سے مہاجرین کی مخصوص نشستیں ختم کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا، تاہم عدالت واضح کر چکی ہے کہ یہ آئینی نشستیں ہیں اور انہیں قانون سازی کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کے میٹرز کی ای ٹینڈرنگ، انٹرنیٹ سہولیات میں بہتری اور بعض سرکاری محکموں کی تعداد میں کمی جیسے مطالبات بھی تسلیم کیے جا چکے ہیں ۔
ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے کہا کہ حکومت میرپور ایئرپورٹ کی فعالیت اور دو ٹنل منصوبوں کی فزیبلٹی پر بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ حالات میں احتجاجی تحریکوں کا مقصد کیا ہے اور کیا پاکستان اور آزادکشمیر کے مضبوط تعلقات یا کشمیر کاز کو کمزور کرنے کی کوشش تو نہیں کی جا رہی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سستی بجلی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی نہیں، ہماری کاوش ہے،وزیر حکومت کا انکشاف
اس موقع پر سابق وزیراعظم آزادکشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو ہٹ دھرمی سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ حکومت پاکستان نے اس کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے، تاہم اب بھی یہ واضح نہیں کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کس بیانیے کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔




