امریکہ کے بیشتر شہریوں نے رائے دی ہے کہ ایران کیساتھ جاری جنگ امریکی مفادات کے خلاف ہے ۔
امریکہ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے حوالے سے عوامی رائے پر مبنی ایک تازہ تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امریکی شہریوں کی بڑی تعداد اس تنازع کو ملک کے مفاد میں سودمند نہیں سمجھتی بلکہ اسے نقصان دہ قرار دے رہی ہے ۔
مختلف عوامی جائزوں اور سرویز کے نتائج سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے آغاز سے قبل بھی امریکی عوام کی اکثریت اس کی مخالف تھی، اور بعد ازاں صورتحال میں بھی کوئی واضح یا نمایاں تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی ۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو جب مبینہ طور پر فوجی کارروائیاں شروع ہوئیں تو اس کے بعد کیے گئے جائزوں میں بھی یہی رجحان برقرار رہا کہ بڑی تعداد میں امریکی ووٹرز اس جنگ کو غیر ضروری اور غیر مؤثر سمجھتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:روس پاکستان کی ایران، امریکا کے مابین ثالثی کا معترف، مکمل حمایت کا اعادہ
ماہرین کے مطابق عوامی سطح پر اس نوعیت کی مخالفت کسی بھی حکومت کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے، خصوصاً جب معاملہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے تنازع کی صورت اختیار کر لے ۔ یونیورسٹی آف میری لینڈ کے پروفیسر برائے امن و ترقی، شبلی تلحمی، نے اس موضوع پر متعدد عوامی سروے اور تحقیقی جائزے کیے ہیں ۔
ان کے مطابق نتائج سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بہت کم امریکی شہری یہ سمجھتے ہیں کہ ایران کیساتھ جاری یا ممکنہ جنگ امریکہ کے قومی مفادات کو بہتر انداز میں آگے بڑھا رہی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ عوامی رائے کا یہ رجحان امریکی پالیسی سازی پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ یا کشیدگی طویل عرصے تک برقرار رہتی ہے اور عوامی مخالفت میں اضافہ یا تسلسل برقرار رہتا ہے تو اس کے اثرات صرف خارجہ پالیسی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ اندرونی سیاست، حکومتی فیصلوں اور آئندہ انتخابات پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران میں جاری اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہونگے : روسی صدر
خاص طور پر سیاسی قیادت، بشمول سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی داخلی سیاسی پوزیشن پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق امریکی تاریخ میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں جب بیرونی جنگوں کے خلاف عوامی رائے نے پالیسیوں کے رخ کو متاثر کیا ہے ۔




