چکار(کشمیر ڈیجیٹل)جماعت اسلامی آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے امیر ڈاکٹر محمد مشتاق خان نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے فیصلے کرنا آئینی اداروں کی ذمہ داری ہے۔۔
آئین اور قانون کے دائرے میں جمہوری انداز سے انفرادی یا اجتماعی طور پر عوامی حقوق کیلئے جدوجہد ہوتی ہے تو جماعت اسلامی نے پہلے بھی ساتھ دیا اور اب بھی دے گی۔
قابض ہندوستانی فوج گزشتہ گئی دنوں سے راجوری اور پونچھ میں بدترین ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کررہی ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر الیکشن شیڈول جون کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے، ترجمان الیکشن کمیشن
اقوام متحدہ اور او آئی سی اس کا نوٹس لیں۔کشمیری اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق کھ حصول کی جدوجہد کررہے ہیں۔
جماعت اسلامی نے ہمیشہ آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے عوامی حقوق کے حصول کی جدوجہد کی ہے اور کررہی ہے۔۔
آزاد کشمیر کے عوام کے پاس دو مای بعد موقع آرہا ہے کہ وہ درست فیصلے کریں اور اس شیطانی نظام اور اس کی محافظ قیادت کو بدلیں۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران چکار میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں آئی فونز ،سام سنگ کے فلیگ شپ فون سستے ہونے کا امکان
انھوں نے کہا کہ جماعت اسلامی حق دو عوام کو اور بدلو اس نظام کے بیانیہ کے ساتھ عوام کے پاس آئی ہے اس نظام اور اس قیادت کے ہوتے ہوئے عوام کھ پاس حل نہیں ہو سکتے۔
جماعت اسلامی اقتدار میں اکر مراعات یاقتہ طبقے کی مراعات ختم کرے گی۔جماعت اسلامی عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولیات مفت فراہم کرے گی ۔
عوام کو بجلی کو لوڈشیدنگ کے عذاب سے نجات دلائے گی نوجوانوں کو بنو قابل پروگرام کے تحت باعزت روزگار کے قابل بنائے گی۔۔
انہوں نے کہا کہ انگریزون کا دیا ہوا بوسیدہ اور فرسودہ نظام فیل ہو چکا ہے جماعت اسلامی نظام عدل قائم کرے گی عوام کو کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے احتجاج نہیں کرنا پڑے گا۔
یہی وقت ہے ووٹ کی پرچی سے قیادت اور نظام بدلیں جماعت اسلامی نے ازاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے ہر حلقے میں اپنے امیدوار میدان میں اتار دئے ہیں۔




