مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور وفاقی و آزاد حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران باہمی مشاورت کے بعد دوبارہ مذاکراتی میز پر پہنچ گئے ہیں، جہاں مختلف امور پر مزید گفت و شنید جاری ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سابق کپتان وسیم اکرم کی حج سے متعلق قیاس آرائیوں پر وضاحت جاری
تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مذاکرات کسی مشترکہ اعلامیے پر منتج ہوں گے یا فریقین اختلافات برقرار رکھتے ہوئے مذاکراتی عمل ختم کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض نکات پر پیش رفت ہوئی ہے جبکہ چند اہم معاملات پر ابھی اتفاق رائے درکار ہے۔سیاسی و عوامی حلقوں کی نظریں اب مذاکرات کے حتمی نتیجے پر مرکوز ہیں
مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد: لوئر چھتر روڈ پر دراڑ، زمین دھنسنے لگی، بڑے حادثے کا خطرہ
کیونکہ اس کے اثرات مہاجرین نشستوں سمیت دیگر عوامی مطالبات اور 9 جون کو اعلان کردہ ممکنہ احتجاجی پروگرام پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
مذاکراتی عمل رات گئے تک جاری رہنے کا امکان ہے جبکہ حتمی فیصلے اور باضابطہ موقف کے لیے کل تک انتظار کرنا ہوگا۔
مشترکہ اعلامیہ یا علیحدہ علیحدہ مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی صورتحال پوری طرح واضح ہو سکے گی۔
دوسری جانب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبر شوکت نواز میر نے مذاکرات کے اختتام پر اعلامیہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا ہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، حکومت پاکستان اور آزاد حکومت کے درمیان دن بھر مذاکرات جاری رہے۔ اس دوران مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال اور تجاویز پر غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق مذاکرات کے دوران حکومت پاکستان اور آزاد کشمیر کے نمائندگان نے 9 جون کو دی گئی پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی کال ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔۔
تاہم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے 9 جون کی کال برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
شوکت نواز میر نے عوام، ریاست بھر کے شہریوں اور اوورسیز کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ 9 جون کے احتجاجی پروگرام کے حوالے سے اپنی تیاریوں کو مزید تیز کریں۔
انہوں نے کہا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی حکمرانوں کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی ہر سنجیدہ کوشش کا خیرمقدم کرتی ہے اور آئندہ بھی ایسے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گی، تاہم مطالبات کی منظوری تک عوامی جدوجہد جاری رہے گی۔
اعلامیے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ 9 جون کو اعلان کردہ ریاست گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال فی الحال اپنی جگہ برقرار ہے، جبکہ مذاکراتی عمل کے حوالے سے آئندہ پیش رفت کی صورت میں مزید اعلان کیا جائے گا۔




