سونا

سونا ایک بار پھر مہنگا، ایک ہی دن میں 5 ہزار روپے کا بڑا اضافہ

ملک بھر میں سونے کی قیمتوں کو ایک بار پھر پر لگ گئے ہیں، جہاں صرف ایک روز کی عارضی کمی کے بعد آج مقامی صرافہ بازاروں میں سونے اور چاندی کے نرخوں میں دوبارہ بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ موجودہ عالمی سیاسی و اقتصادی صورتحال کے باعث سرمایہ کار سونے کو سب سے محفوظ راستہ سمجھ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز سونے کی فی تولہ قیمت میں 6 ہزار 800 روپے کی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم آج قیمتوں نے دوبارہ اڑان بھری ہے اور فی تولہ سونا 5 ہزار روپے مہنگا ہو گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ملک میں سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 75(ہزار 362 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کے نرخ بھی 4 ہزار 287 روپے کے اضافے کے ساتھ 4 لاکھ 7 ہزار 546 روپے ہو گئے ہیں۔

سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کے خریداروں کو بھی آج مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملک میں فی تولہ چاندی کی قیمت 60 روپے بڑھنے سے 8 ہزار 034 روپے جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 51 روپے کے اضافے سے 6 ہزار 887 روپے کی سطح پر آ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں سونا مستحکم، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد گراوٹ

واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں سونا 68 ڈالر کی کمی سے 4 ہزار 480 ڈالر فی اونس پر بند ہوا تھا، جس کے اثر سے مقامی سطح پر فی تولہ سونا 6 ہزار 800 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 70 ہزار 362 روپے اور 10 گرام سونا 5 ہزار 830 روپے کی کمی سے 4 لاکھ 3 ہزار 259 روپے کی سطح پر آگیا تھا، مگر یہ کمی عارضی ثابت ہوئی۔ ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ حالیہ عالمی سیاسی و اقتصادی عدم استحکام میں سونا اور چاندی سرمایہ کاری کے لیے سب سے محفوظ اثاثہ ثابت ہو رہے ہیں، اور آنے والے دنوں میں ان قیمتی دھاتوں کی قیمتیں مزید بلند ہونے کا امکان ہے۔

ورلڈ گولڈ کونسل کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سونے کے ذخائر رکھنے کے حوالے سے امریکا، جرمنی اور اٹلی سرفہرست ہیں، جہاں امریکا دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ اگر ایشیا کی بات کی جائے تو سونے کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے کا اعزاز چین کے پاس ہے، جبکہ بھارت عالمی سطح پر آٹھویں اور ایشیا میں دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ پاکستان اس عالمی فہرست میں 49 ویں نمبر پر آتا ہے۔

مزید پڑھیں: شہداء کی قربانیاں مقدس امانت ہیں، پائیدار امن تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی: فیلڈ مارشل

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ مختلف ممالک کے مرکزی بینکوں نے سال 2024ء میں مجموعی طور پر 1,000 میٹرک ٹن سے زائد سونا خریدا ہے، جو کہ گزشتہ دہائی کی اوسط سالانہ خریداری کے مقابلے میں تقریباً دوگنا بنتا ہے۔ اسی مرکزی بینکوں کی بڑے پیمانے پر خریداری اور عالمی دباؤ کی وجہ سے قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔