ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا ایک ناکارہ حصہ تیزی سے چاند کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جس کا 5 اگست 2026 کو چاند کی سطح سے ٹکرانے کا امکان ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پروجیکٹ پلوٹو کے تحت خلا میں موجود اجسام کی نگرانی کرنے والے ماہر فلکیات بل گرے کے مطابق تقریباً 450 ٹن وزنی یہ دھاتی ٹکڑا 5 ہزار 400 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند کے آئن اسٹائن کریٹر کے قریب جا ٹکرائے گا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:جتھہ برداروں کو فیصلوں کا اختیار نہیں ،پیپلزپارٹی الیکشن سے بھاگنا چاہتی ہے،شاہ غلام قادر
رپورٹس کے مطابق 5 منزلہ عمارت جتنا بڑا یہ خلائی ملبہ گزشتہ ایک سال سے خلا میں بے ترتیب انداز میں گردش کر رہا تھا۔ جبکہ زمین، چاند، سورج اور دیگر سیاروں کی کشش ثقل اب اسے اس کے آخری انجام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
یہ راکٹ جنوری 2025 میں چاند پر لینڈرز لے جانے والے مشن کا حصہ تھا۔ تاہم مشن مکمل ہونے کے بعد اس کا بالائی حصہ خلا میں بھٹکتا رہا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر :سینئر صحافی رانا شبیر راجوری راولپنڈی میں لٹ گئے، ملزمان ویران جگہ چھوڑ کر فرار
بل گرے کا کہنا ہے کہ سورج کی شعاعیں اگرچہ ایسے اجسام پر معمولی اثر ڈالتی ہیں۔ تاہم ان کی حرکت کا اندازہ کافی حد تک لگایا جا سکتا ہے۔
اور موجودہ حساب کے مطابق 5 اگست کو چاند اور راکٹ اپنے مدار کے اس مقام پر ہوں گے جہاں تصادم یقینی دکھائی دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق زمین سے اس ٹکراؤ کو براہ راست دیکھنا ممکن نہیں ہو گا۔ تاہم چاند کے گرد گردش کرنیوالے مصنوعی سیارے اس تصادم سے بننے والے نئے گڑھے کی تصاویر حاصل کر سکتے ہیں۔ جس سے خلائی کچرے کے اثرات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔




