ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ جارحیت دوبارہ شروع کی گئی تو جنگ میں جو کچھ سیکھا ہے، اس کی مدد سے مزید حیرت انگیز ردعمل دیا جائیگا۔
سوشل میڈیا پر بیان میں ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےکہا کہ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے مہینوں بعد امریکی کانگریس نے اعتراف کرلیا ہے کہ لڑائی میں اربوں ڈالر مالیت کے کئی درجنوں لڑاکا طیارے تباہ ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کو جھٹکا،امریکی سینیٹ میں ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے کی قرارداد منظور
انہوں نے کہا کہ یہ بھی تصدیق کردی گئی کہ ایرانی فوج سب سے پہلی قوت ہے جس نے امریکا کا اہم ترین ایف تھرٹی فائیو طیارہ بھی مار گرایا تھا۔
Months after initiation of war on Iran, US Congress acknowledges loss of dozens of aircraft worth billions.
Our powerful Armed Forces are confirmed as 1st to strike down a touted F-35.
With lessons learned and knowledge we gained, return to war will feature many more surprises.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) May 19, 2026
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران کے پاس جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے کیونکہ امریکا ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں تاہم اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا دوبارہ فوجی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس شاید جمعہ، ہفتہ، اتوار یا اگلے ہفتے کے آغاز تک کا وقت ہے۔ ان کے بقول جلد واضح ہوجائے گا کہ تہران کیا فیصلہ کرتا ہے لیکن ایران کو بڑا دھچکا دینا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی سپریم لیڈر آبادی میں اضافے کے خواہشمند،عوام کو پیغام جاری
صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ امریکا پیر کے روز ایران پر حملہ کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا تاہم خلیجی ممالک کی درخواست پر کارروائی روک دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے کے کئی اتحادی جنگ کے پھیلاؤ سے متعلق تشویش رکھتے تھے۔




