وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آزادکشمیر کے آئندہ عام انتخابات 2026 کے انعقاد سے قبل ایک انتہائی اہم، بڑی اور دور رس سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مذہبی و سیاسی جماعت ‘جمعیت علمائے جموں و کشمیر’ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اپنا سابقہ انتخابی اتحاد مکمل طور پر ختم کرنے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی جماعت نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ نئے انتخابی الائنس یعنی باضابطہ انتخابی اتحاد کا باقاعدہ اعلان کر کے خطے کے سیاسی منظر نامے میں بڑی ہلچل پیدا کر دی ہے۔
اس نئے انتخابی اتحاد کو حتمی شکل دینے اور آئندہ کی مشترکہ انتخابی حکمت عملی وضع کرنے کے لیے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ترین سیاسی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس اہم بیٹھک میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان اور صدر مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر و اپوزیشن لیڈر شاہ غلام قادر نے خصوصی طور پر شرکت کی اور اپنی جماعت کی نمائندگی کی۔ دوسری جانب، جمعیت علمائے جموں و کشمیر کے وفد کی قیادت مرکزی رہنما مولانا امتیاز احمد صدیقی نے کی، جبکہ ان کے ہمراہ ان کے دیگر مقتدر رفقاء اور جماعت کے سینیئر عہدیداران بھی اجلاس میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات 2026: الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقوں کی فائنل لسٹ جاری کر دی
انتخابی اتحاد کی تبدیلی اور ن لیگ کی حمایت کا باضابطہ اعلان:
اسلام آباد میں ہونے والے اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کے مابین آزادکشمیر کے سیاسی حالات اور آئندہ کے انتخابی دنگل کے حوالے سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ اس اہم ترین اجلاس کے اختتام پر جمعیت علمائے جموں و کشمیر کی قیادت نے آئندہ ہونے والے آزادکشمیر کے عام انتخابات 2026 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدواروں کی بھرپور اور غیر مشروط انتخابی حمایت کا باضابطہ طور پر بڑا اعلان کر دیا۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر الیکشن کمیشن: ووٹر فہرستوں کی تصدیق اور رجسٹریشن کیلئے آج آخری موقع
اس موقع پر مولانا امتیاز احمد صدیقی اور ان کے رفقاء نے میڈیا اور سیاسی حلقوں کے سامنے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ اپنے سابقہ انتخابی اتحاد کو باقاعدہ اور مستقل طور پر ختم کرنے کی قطعی تصدیق بھی کر دی، جس کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی انتخابی میدانِ جنگ میں سیاسی وفاداریوں اور اتحادوں کا ایک بالکل نیا رخ سامنے آ گیا ہے۔




