وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ملک بھر میں وسیع توجہ حاصل کرنے والے ہائی پروفائل ‘ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس’ میں انتہائی اہم اور بڑا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم عمر حیات کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت کا حکم سنا دیا ہے۔ عدالت نے سزائے موت کے ساتھ ساتھ مجرم پر بھاری جرمانہ اور قید کی سزا بھی عائد کی ہے۔
کیس کی باقاعدہ عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوٹر راجہ نوید حسین اور مقتولہ ثنا یوسف کے وکیل سردار قدیر عدالت کے روبرو پیش ہوئے، جبکہ اس اہم فیصلے کے موقع پر مقتولہ ثنا یوسف کے والد اور والدہ بھی کمرہ عدالت میں خود موجود تھے۔ سماعت کے دوران پراسیکیوشن (استغاثہ) کی جانب سے کیس کے تمام تر شواہد اور حتمی دلائل مکمل کیے گئے اور عدالت کو اس ہولناک واقعے کے مختلف قانونی و عینی پہلوؤں سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثنا یوسف سے رابطہ نہیں تھا ،ملزم نے کیس کو پلانٹڈ قرار دیدیا
محفوظ فیصلہ اور سزا کی تفصیلات:
عدالت نے فریقین کے دلائل اور شواہد کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جسے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے آج کھلی عدالت میں سنایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ملزم عمر حیات کو ثنا یوسف کے قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کی سزا سنائی۔ عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم عمر حیات کو 20 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مجرم کو مزید 10 سال قید اور 2 لاکھ روپے الگ سے جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔




