اثرات

پاکستان نے جون کیلئے پٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر محفوظ کر لیے

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان نے ملک میں ایندھن کی بلاتعطل فراہمی برقرار رکھنے کے لیے جون کے مہینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر محفوظ کر کے ایک بڑا اور اہم ترین فیصلہ کر لیا ہے۔

اسلام آباد سے موصول ہونے والی تازہ ترین کاروباری رپورٹس کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جاری حالیہ کشیدگی اور غیر یقینی حالات کے باعث حکومتِ پاکستان نے پیشگی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ وزارتِ پیٹرولیم کے اعلیٰ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جون کے پورے مہینے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے اسٹریٹجک ذخائر کو قبل از وقت ہی محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس بڑے فیصلے کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں کسی بھی قسم کے بحران یا ہنگامی صورتحال کی صورت میں ملک کے اندر ایندھن کی سپلائی کا نظام رتی برابر بھی متاثر نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں کو پَر لگ گئے

وزارتِ پیٹرولیم کے حکام کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ اعداد و شمار کے مطابق، آئندہ ماہ جون کی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 446 میٹرک ٹن خام تیل (Crude Oil) کا اسٹریٹجک ذخیرہ مکمل طور پر محفوظ کر لیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ملک بھر میں ترسیل اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو چلانے کے لیے 201 میٹرک ٹن ڈیزل کا بندوبست بھی کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے تاکہ سپلائی چین میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ ملکی ضروریات کے تحت جون کے مہینے میں مقامی سطح پر 98 میٹرک ٹن پٹرول حاصل کرنے کا حتمی تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ فضائی سفر اور ہوا بازی کی صنعت کے لیے 18 میٹرک ٹن جیٹ فیول (Jet Fuel) بھی پیشگی ذخیرہ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال یا دفاعی ضرورت کے پیشِ نظر 12 دنوں کے لیے ‘جے پی-8’ (JP-8) فیول کے خصوصی ذخائر بھی مکمل طور پر محفوظ کیے گئے ہیں تاکہ سپلائی کا نظام مستحکم رہے۔ اس کے علاوہ، گھریلو اور صنعتی ضروریات کے لیے جون کے مہینے کے لیے 18 میٹرک ٹن ایل پی جی (LPG) کا بندوبست بھی فائنل کر لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ روپے کمی، نوٹیفکیشن جاری

وزارتِ پیٹرولیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے خاتمے کے فوری بعد، پاکستان توانائی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک جامع اور طویل المدتی منصوبہ بندی پر کام کا باقاعدہ آغاز کرے گا۔ حکام کے مطابق، اس دور رس منصوبہ بندی کا مقصد یہ ہے کہ مستقبل میں عالمی سطح پر اٹھنے والے کسی بھی بڑے توانائی بحران سے پاکستان کو مستقل طور پر محفوظ رکھا جا سکے اور ملکی معیشت کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور سپلائی کے جھٹکوں سے بچایا جا سکے۔