بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کا بڑا ایکشن: فتنہ الہندوستان کی کمر ٹوٹ گئی

بلوچستان میں امن دشمن عناصر کے خلاف ریاستی اداروں اور سیکورٹی فورسز نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کا گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں تسلسل کے ساتھ جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے نتیجے میں اس دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی گئی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جنوری 2026 میں بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان نے نام نہاد آپریشن “ہیروف 2.0” شروع کیا تھا، جس کا بنیادی مقصد دنیا کو یہ گمراہ کن تاثر دینا تھا کہ بلوچستان پر ان کا کنٹرول ہے، تاہم وہ اس مذموم مقصد میں بری طرح ناکام ہوئے۔ اس ناکام آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز کی موثر جوابی کارروائی میں 344 فتنہ الہندوستان دہشت گرد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اس عبرتناک ناکامی کے بعد دہشت گردوں نے “ہٹ اینڈ رن” یعنی کارروائی کر کے بھاگ جانے کی حکمتِ عملی کا سہارا لیا ہے۔ بلوچستان کی کم آبادی، وسیع رقبہ اور طویل شاہراہیں ایسے بزدلانہ حملوں کے لیے حساس ہیں، جس کا فائدہ اٹھا کر یہ دہشت گرد عام شہریوں اور چرواہوں کے بھیس میں نقل و حرکت کرتے ہیں، غیر روایتی راستے استعمال کرتے ہیں اور مقامی آبادی میں گھل مل جاتے ہیں۔ وہ چھوٹے پیمانے کی کارروائیاں کرکے ان کی ویڈیوز بناتے ہیں اور پھر اسے سوشل میڈیا پر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں جو کہ محض پروپیگنڈا ہے اور عملی طور پر انہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن: فتنہ الخوارج کے 2 انتہائی مطلوب دہشت گرد ہلاک

انٹیلی جنس آپریشنز میں تیزی اور اعلیٰ قیادت کی ہلاکت:

سرکاری ادارے دشمن کے ان تمام حربوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے خلاف مسلسل مؤثراور ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے اور اس وقت روزانہ کی بنیاد پر بلوچستان بھر میں 200 سے زائد آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں گزشتہ دو دنوں کے دوران 45 سے زائد فتنہ الہندوستان دہشت گرد جہنم واصل کیے جا چکے ہیں جبکہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران مجموعی طور پر 600 سے زائد فتنہ الہندوستان دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں، جن میں ان کی اعلیٰ قیادت بھی شامل ہے۔ ہلاک ہونے والے اہم کمانڈروں میں 2 فروری کو ثاقب مری عرف شیڈا، 5 مارچ کو نعیم عرف ڈاکٹر، 17 مارچ کو سہیل بلوچ عرف گرگ بلوچ، 25 اپریل کو مہران لاشاری، اور 2 مئی کو سنگت سلال عرف میجر نورا شامل ہیں جو اپنے انجام کو پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ سابقہ لیویز فورس یعنی بلوچستان پولیس کی استعداد کار میں بھی تیزی سے اضافہ کیا جا رہا ہے جبکہ ٹیکنیکل نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر اور وسیع بنا دیا گیا ہے۔

دہشت گردوں کی بڑھتی ہوئی مایوسی اور عوامی ردعمل:

اپنے تمام نئے منصوبوں میں بدترین ناکامی کے بعد فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے اب نرم اہداف کو نشانہ بنانا شروع کردیا ہے، جن میں مال بردار ٹرکوں کو نذرِ آتش کرنا، شہری بینکوں کو لوٹنا اور غریب مزدوروں کو اغوا کرنا شامل ہے۔ ماضی میں وہ بلوچ شہریوں کو نشانہ بنانے سے گریز کا ڈرامہ کرتے تھے، مگر اب خود بلوچوں کے اغوا کے واقعات بھی تواتر سے سامنے آ رہے ہیں، جن میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے اغوا کا حالیہ واقعہ ایک واضح مثال ہے اور یہ سب ان کی بڑھتی ہوئی شدید مایوسی کا اظہار ہے۔ بھارت کے حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان کی ان عوام دشمن اور ترقی مخالف کارروائیوں نے خود ان کی اپنی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور جس طرح وہ زمینی حقائق میں شکست کھا رہے ہیں، اسی طرح وہ عوامی تاثر اور سماجی میدان میں بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ ریاستی اداروں کے عوامی رابطہ پروگرامز، BSDI اور پاکستان کے حق میں نکلنے والی ریلیوں میں مقامی آبادی کی بھرپور اور جوش و خروش سے شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بلوچ عوام ان جرائم پیشہ عناصر اور کرائے کے دہشت گردوں سے اب مکمل طور پر تنگ آ چکے ہیں۔

عالمی سازشیں اور سیکیورٹی فورسز کا عزم:

دوسری جانب پاکستان کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی اور سفارتی اہمیت نے صہیونی-ہندوتوا اتحاد کی قیادت میں کام کرنے والے پاکستان دشمن عناصر کو شدید پریشان کر دیا ہے اور حالیہ دنوں میں پاکستان کے خلاف چلائی جانے والی میڈیا مہمات اس کا واضح ثبوت ہیں۔ ایک طرف یہ گٹھ جوڑ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، تو دوسری طرف فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج جیسے پراکسی گروہوں کے ذریعے ملک کے اندر داخلی عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے۔ تاہم حکومت اور سیکیورٹی فورسز اس وقت دشمن کے تمام عزائم سے مکمل طور پر باخبر اور ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ کیا ہو رہا ہے، کیا کرنا ہے، کب کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے، اور ریاست اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گی جب تک پاکستان کے دشمن اپنے عبرتناک انجام یعنی جہنم تک نہیں پہنچ جاتے۔

مزید پڑھیں: افغان سیکیورٹی گارڈ نے بھانڈا پھوڑ دیا: ہسپتال پر حملے کے بھارتی اور افغان پروپیگنڈے کا پول کھل گیا