بساڑی کے رہائشی محمد اعظم کی سہنسہ میں پراسرار موت معمہ بن گئی، اہل علاقہ میں غم واضطراب

بیٹھک اعوان آباد(کشمیر ڈیجیٹل)بساڑی کے رہائشی محمد اعظم کی سہنسہ میں پُراسرار اور افسوسناک موت نے پورے علاقے کو غم و اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے

جبکہ ورثاء اور اہلِ علاقہ میں شدید بے چینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لواحقین نے وزیرِ اعظم آزاد کشمیر، آئی جی آزاد کشمیر اور ایس پی کوٹلی سے فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انصاف کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔

اہلِ خانہ اور خاندانی ذرائع کے مطابق محمد اعظم گزشتہ تقریباً دس برس سے سہنسہ میں ملازمت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ چند روز قبل اُن کی حالت اچانک تشویشناک ہو گئی جس پر انہیں کوٹلی ہسپتال منتقل کیا گیا۔۔

تاہم طبیعت مزید بگڑنے پر ڈاکٹروں نے انہیں راولپنڈی ریفر کر دیا جہاں وہ دورانِ علاج زندگی کی بازی ہار گئے۔ ذرائع کے مطابق معالجین نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ متوفی کو کوئی زہریلی شے دی گئی تھی، جس کے باعث معاملہ مزید پراسرار صورت اختیار کر گیا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کاہیپاٹائٹس سی کی مفت علاج کا اعلان

اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ واقعہ کی رپورٹ تھانہ سہنسہ میں درج کروائی جا چکی ہے، مگر تاحال کوئی مؤثر پیش رفت یا عملی کارروائی سامنے نہیں آ سکی، جس سے ورثاء میں شدید مایوسی اور اضطراب پایا جا رہا ہے۔

متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات کیے جاتے تو شاید کئی اہم حقائق منظرِ عام پر آ سکتے تھے۔

مقامی عمائدین، سماجی شخصیات اور اہلِ علاقہ نے واقعہ کی مکمل چھان بین کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موت کے اس افسوسناک سانحے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے

تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے آسکیں اور کسی بھی قسم کی بدعنوانی، غفلت یا مجرمانہ کارروائی کو بے نقاب کیا جا سکے۔ورثاء نے اپنے مطالبے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحقیقات کو ہر قسم کے دباؤ اور اثرورسوخ سے بالاتر رکھتے ہوئے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی فرد کی غفلت، کوتاہی یا مجرمانہ سازش ثابت ہوئی تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف میسر آ سکے اور عوام کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد بحال ہو۔