آزاد جموں و کشمیر میں انتخابی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے بھاری ترقیاتی فنڈز کے اجرا نے ایک بڑا قانونی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ بھمبر سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیاسی رہنما اور سابق امیدوار اسمبلی راجہ تیمور الیاس نے حکومت کے اس اقدام کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرتے ہوئے رٹ پٹیشن دائر کر دی ہے۔
رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر حکومت نے حال ہی میں ترقیاتی فنڈز کی مد میں 275.4080 ملین روپے موجودہ اراکین اسمبلی کو فراہم کیے ہیں۔ درخواست گزار کے مطابق ان فنڈز کی تقسیم کا تناسب درج ذیل ہے:
- اگر یہ رقم 33 موجودہ ایم ایل ایز (MLAs) میں تقسیم کی جائے تو فی رکن اسمبلی تقریباً 600.123 ملین روپے بنتے ہیں۔
- مہاجرین کی نشستوں کے اراکین کو شامل کرنے کی صورت میں یہ رقم فی ایم ایل اے تقریباً 600.90 ملین روپے بنتی ہے۔
انتخابی شفافیت اور “پری پول دھاندلی” کے خدشات:
راجہ تیمور الیاس نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جب انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور تمام امیدوار مہم میں مصروف ہیں، ایسے وقت میں ترقیاتی منصوبوں کے نام پر بھاری فنڈز جاری کرنا انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے اسے “قبل از وقت انتخابی دھاندلی” کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے انتخابی امیدوار برابری کی سطح پر نہیں رہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات؛ انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کے خدشات، شفافیت بڑا چیلنج قرار
سیاسی تعصب اور عوامی فلاح پر سوالات:
درخواست میں یہ اہم نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ اگر عوامی ترقی ہی مقصد تھا تو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران یہ فنڈز کیوں جاری نہیں کیے گئے؟ اب انتخابات کے قریب اتنی بڑی مالی تقسیم کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش تصور کیا جا رہا ہے۔ رٹ کے مطابق فنڈز کی یہ غیر متوازن تقسیم رائے عامہ پر اثر انداز ہونے اور سیاسی تعصب کو فروغ دینے کا سبب بن سکتی ہے۔
الیکشن کمیشن سے استدعا:
پٹیشن میں الیکشن کمیشن سے استدعا کی گئی ہے کہ جاری کیے گئے ترقیاتی فنڈز کو فوری طور پر منسوخ کر کے واپس لیا جائے۔ مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کا سرمایہ حقیقی معنوں میں عوامی فلاح و ترقی پر خرچ ہونا چاہیے اور آئندہ انتخابات مکمل شفافیت، غیر جانبداری اور تمام امیدواروں کے لیے مساوی مواقع کی بنیاد پر منعقد کیے جائیں۔




