ایچ ای سی کا بڑا فیصلہ: پاکستان میں ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز شروع کرنے کی منظوری

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک کے تعلیمی نظام میں بڑی تبدیلی لاتے ہوئے پہلی بار ڈبل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز متعارف کروانے کا باضابطہ فیصلہ کر لیا ہے۔ اس تاریخی اقدام کا مقصد پاکستانی طلبہ کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیمی سہولیات فراہم کرنا اور بین الاقوامی سطح پر تعلیمی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نئی پالیسی کے مطابق اب طلبہ ایک ہی وقت میں ایک ہی یونیورسٹی کے دو مختلف پروگراموں میں داخلہ لینے کے اہل ہوں گے۔ اس سے قبل پاکستان کے تعلیمی ڈھانچے میں ایک وقت میں صرف ایک ڈگری پروگرام میں داخلے کی اجازت تھی، تاہم اب اس پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے۔ طلبہ کے لیے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ دو مختلف پروگراموں میں بیک وقت تعلیم حاصل کرنے کے لیے ایک ہی شعبے یا ڈیپارٹمنٹ کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی پسند کے مختلف شعبوں کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ طلباء محاذ کی حکومت آزادکشمیر کو 15دن کی ڈیڈ لائن

جوائنٹ ڈگری کا طریقہ کار:

جوائنٹ ڈگری پروگرام کے حوالے سے ایچ ای سی نے ایک جامع طریقہ کار وضع کیا ہے۔ اس نظام کے تحت طلبہ اپنی ڈگری کا نصف دورانیہ ایک یونیورسٹی میں اور باقی نصف دورانیہ کسی دوسری یونیورسٹی میں مکمل کر سکیں گے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ متعلقہ دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان باضابطہ طور پر مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) طے شدہ ہو اور اس شراکت داری کے لیے ایچ ای سی سے پیشگی منظوری حاصل کی گئی ہو۔

بین الاقوامی جامعات کے ساتھ تعاون:

ایچ ای سی کے اس نئے تعلیمی ڈھانچے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ سہولت صرف مقامی جامعات تک محدود نہیں ہوگی۔ پاکستانی یونیورسٹیاں ملک کے اندرونی اداروں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی یعنی بیرونی جامعات کے ساتھ بھی ڈبل اور جوائنٹ ڈگری کے معاہدے کر سکیں گی۔ اس سے پاکستانی طلبہ کو عالمی سطح کے تعلیمی معیار تک رسائی حاصل ہوگی اور وہ بین الاقوامی تجربہ حاصل کر سکیں گے۔

مزید پڑھیں: کیلیفورنیا : ٹرک ڈرائیور نے لاٹری وینڈنگ مشین سے ایک لاکھ ڈالر کا انعام جیت لیا

تعلیمی نظام میں تبدیلی کی منظوری:

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ان تمام تجاویز اور پروگراموں کو شروع کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب جامعات اپنے طور پر ڈبل اور جوائنٹ ڈگری کے لیے اقدامات شروع کر سکیں گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے طلبہ کے وقت کی بچت ہوگی اور وہ ایک ہی تعلیمی دورانیے میں دوہری مہارتیں حاصل کر کے ملازمت کے حصول میں زیادہ کامیاب ثابت ہوں گے۔ ایچ ای سی کی یہ منظوری پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔

Scroll to Top