( تحریر :عبدالصبور اعوان )
22 اپریل کو بھارت نے پہلگام میں جھوٹ کا ڈرامہ رچایا۔ مقصد ایک ہی تھا: دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر پاکستان پر وار کرنا، اور اپنی کھوکھلی دھاک بٹھانا۔ مگر ربِ ذوالجلال کی تدبیر سب پر بھاری تھی۔
24 اپریل کی سیاہ رات تھی جب قابض بھارتی افواج نے وادی لیپہ سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ سے جنگ کے شعلے بھڑکائے ۔ مگر وہ بھول گئے کہ سرحد کے اس پار شاہین پہلے سے بیدار تھے۔ پاک فوج کے جری جوان دشمن کے ناپاک عزائم سے پوری طرح آگاہ اور بھرپور تیاری میں تھے۔
جواب آیا تو ایسا آیا کہ دنیا نے دیکھ لیا ۔ کیانی سیکٹر میں بھارت کی متعدد چوکیاں لمحوں میں خاکستر ہو گئیں ۔ دشمن نے نہ صرف بھاری جانی نقصان اٹھایا بلکہ کئی مورچے چھوڑ کر راہِ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔
یہ ایک رات کی بات نہ تھی۔ 24 اپریل سے 10 مئی تک، پورے 16 دن وادی لیپہ کے چپے چپے پر معرکہ حق جاری رہا۔ روز بھارت نے نئی چھیڑ چھاڑ کی، اور روز ہمارے بہادر جوانوں نے اسے دندان شکن جواب دے کر تاریخ کے سنہرے اوراق میں نیا باب لکھا۔
میں نے خود اگلے مورچوں پر جا کر وہ منظر دیکھے ۔ ہمارے جوانوں کے چہرے پر خوف نہیں، یقین تھا۔ آنکھوں میں تھکن نہیں، شوقِ شہادت تھا ۔ وادی لیپہ کے سامنے بھارت کے تین برگیڈ تعینات تھے، اور ہمارے ایک برگیڈ نے ان تینوں کو تہس نہس کر ڈالا۔ کیاں برگیڈ ہیڈکوارٹر اور ٹنگڈار برگیڈ ہیڈکوارٹر مکمل تباہ ہوئے ۔ دشمن کی کمر ٹوٹ چکی تھی۔
میں گواہ ہوں کہ ہمارے اعلیٰ افسران بھی اپنے جوانوں کے شانہ بشانہ اگلے مورچوں پر موجود تھے ۔ قیادت جب خود میدان میں ہو تو فتح مقدر بن جاتی ہے ۔
اور پھر وہ فیصلہ کن گھڑی آئی۔ 9 اور 10 مئی کو بھارت کو جو کاری ضرب لگی، وہ اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ اسے یقین ہو چلا تھا کہ اگر جنگ دو دن اور جاری رہی تو مقبوضہ کشمیر سے اس کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ تب اس نے امریکی صدر سے امن کی بھیک مانگی ۔
وادی لیپہ کی چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا رہے تھے ۔ قابض فورسز زندگی کی امان مانگ رہی تھیں۔ یہ منظر رہتی دنیا تک میری آنکھوں میں نقش رہے گا ۔
امن معاہدے کے بعد جب ہمارے شیر دل جوان مورچوں سے واپس لوٹے تو وادی لیپہ نے انہیں اپنے کندھوں پر اٹھا لیا ۔ جس بازار، جس چوک سے گزرے، پھولوں کی پتیاں نچھاور ہوئیں۔ یہ محبت تھی، یہ عقیدت تھی، یہ اس یقین کا جشن تھا کہ “کشمیر بنے گا پاکستان ۔
میں آج بھی اپنے وطن کے ان محافظوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔
جنہوں نے ثابت کر دیا کہ تعداد نہیں، ایمان لڑتا ہے۔
جنہوں نے پانچ گنا بڑے دشمن کو نشانِ عبرت بنا دیا۔
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد
کشمیر بنے گا پاکستان




