خاتون جیلر

مدھیہ پردیش : خاتون جیلر فیروزہ نے 14سال قیدی کو اپنا دولہا بنا دیا

جیل میں ایک منفرد محبت کی کہانی اپنی منزل کو پہنچ گئی، خاتون جیلر نے قیدی کو اپنا دولہا بنا کر ہر کسی کو حیران کر دیا ۔

بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک منفرد محبت کی کہانی نے لوگوں کو حیران کر دیا، جہاں جیل میں شروع ہونے والا تعلق بالآخر شادی پر منتج ہوگیا ۔

ستنا سینٹرل جیل میں تعینات خاتون ڈپٹی جیلر فیروزہ نے ایک سابق قیدی دھرمیندر عرف ابھیلاش سے شادی کر لی، جس کے بعد یہ واقعہ سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں خاصا موضوعِ بحث بن گیا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دھرمیندر عرف ابھیلاش کو چانڈلہ میونسپل کونسل کے نائب صدر کے قتل کے مقدمے میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ دورانِ قید وہ ستنا سینٹرل جیل میں رہا، جہاں ڈپٹی جیلر فیروزہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی تھیں ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گھر والے شادی نہیں کروا رہے، انڈین خاتون تھانے پہنچ گئی

اسی عرصے میں دونوں کے درمیان جان پہچان بڑھی جو وقت کے ساتھ محبت میں تبدیل ہوگئی۔دھرمیندر سال 2020 میں سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہوگیا تھا ، تاہم دونوں نے اپنے تعلق کو برقرار رکھا ۔

فیروزہ نے اس کی رہائی کے بعد مناسب وقت کا انتظار کیا اور بالآخر 5 مئی کو دونوں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوگئے ۔ شادی کی تقریب مدھیہ پردیش کے ضلع چھتر پور کے علاقے لوکش نگر کے ایک میرج گارڈن میں منعقد ہوئی جہاں قریبی رشتہ داروں اور دوستوں نے شرکت کی ۔

شادی ہندو رسم و رواج کے مطابق انجام دی گئی ۔ شادی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیروزہ کا کہنا تھا کہ دھرمیندر سے شادی ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور وہ اپنی نئی زندگی سے خوش ہیں ۔

ان کے مطابق ہر فرد کو اپنی نجی زندگی کے فیصلے خود کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اہلِ خانہ بھی اس فیصلے میں ان کے ساتھ ہیں۔دوسری جانب ستنا سینٹرل جیل کی سپرنٹنڈنٹ لینا کوسٹا نے بھی اس معاملے کو ذاتی حیثیت کا قرار دیا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:اتر پردیش: شادی تقریب میں تیز موسیقی سے 140 مرغیاں ہلاک، تحقیقات شروع

ان کا کہنا تھا کہ فیروزہ چند روز کی چھٹی پر ہیں اور ان کی شادی پہلے سے طے شدہ تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے اس معاملے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا کیونکہ یہ دونوں افراد کی باہمی رضامندی اور نجی زندگی کا معاملہ ہے ۔

Scroll to Top