ٹیوٹا آزاد کشمیر میں بھرتیوں کے دوران سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف؛ تقرریاں عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان

مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) میں حالیہ بھرتیوں کا عمل تنازعات کا شکار ہو گیا ہے۔

سلیکشن کمیٹی کے ارکان میں شدید اختلافات اور میرٹ کی مبینہ پامالی کے خلاف متاثرہ امیدواروں نے قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سلیکشن کمیٹی میں پھوٹ اور قانونی پیچیدگیاں:

ذرائع کے مطابق بھرتیوں کے لیے ڈائریکٹر ایڈمن کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اور ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن ممبران تھے، اس وقت تقسیم کا شکار ہوئی جب ایک اہم رکن نے مبینہ “ڈکٹیشن” لینے سے انکار کر دیا۔ مذکورہ رکن نے میرٹ کے برعکس فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کسی بھی متنازع دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، جس کے باعث کمیٹی عملاً دو رکنی رہ گئی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق نامکمل کمیٹی کی جانب سے نیلم اور جہلم ویلی میں مکمل کیے گئے انٹرویوز قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی اور اخلاقی طور پر متنازع ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر ٹیوٹا میں بھرتیاں متنازع: سلیکشن کمیٹی میں پھوٹ، میرٹ کی دھجیاں اڑانے کا انکشاف

مبینہ بندر بانٹ اور امیدواروں کے تحفظات:

درخواست گزاروں نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی امیدوار 500 روپے فیس وصول کرنے کے باوجود نتائج مبینہ طور پر پہلے سے طے شدہ ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق جہلم ویلی کی ایک نشست کے لیے 50، نیلم کی دو نشستوں کے لیے 40 جبکہ مظفرآباد کی دو آسامیوں کے لیے 150 کے قریب درخواستیں موصول ہوئیں، جس سے بھاری رقم جمع کی گئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ پورا عمل محض پہلے سے تعینات عارضی ٹیچرز کو مستقل کرنے کے لیے ایک رسمی کارروائی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ لیپا میں عظمت بی بی، مظفرآباد میں نصرت اور عظمیٰ ظفر جبکہ نیلم میں شازیہ اور سلمیٰ کے نام بطور ممکنہ مستقل امیدوار سامنے آنے پر دیگر امیدواروں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

قانونی محاذ اور عوامی مطالبہ:

متاثرہ امیدوار خواتین کے عزیز و اقارب پر مشتمل ایک وفد نے پٹہکہ نصیر آباد میں نوجوان قانون دان سید ساجد نقوی ایڈووکیٹ سے ملاقات کی، جنہوں نے میرٹ کی پامالی کی صورت میں بلا معاوضہ کیس لڑنے اور ان بھرتیوں کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی کو مستحق امیدواروں کا حق چھیننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب سول سوسائٹی اور تعلیمی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بھرتی کے اس پورے عمل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اداروں کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو سکے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران معاہدے کے قریب؛’ایگزیوس’ نے ممکنہ ایگریمنٹ کی تفصیلات جاری کر دیں

Scroll to Top