مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (ٹیوٹا) میں حالیہ بھرتیوں کے عمل کے دوران قائم سلیکشن کمیٹی میں اختلافات سامنے آنے کی اطلاعات نے پورے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ کمیٹی ڈائریکٹر ایڈمن کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن اور ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشن/اکیڈمک بطور ممبران شامل تھے۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی کے ایک اہم رکن نے نہ صرف مبینہ طور پر “ڈکٹیشن” لینے سے انکار کیا بلکہ سلیکشن کے مجموعی طریقہ کار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ اس اختلاف کے نتیجے میں کمیٹی عملاً دو رکنی رہ گئی، جو قواعد و ضوابط کے مطابق نامکمل تصور کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود نیلم اور جہلم ویلی میں امیدواروں کے انٹرویوز مکمل کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جو خود ایک سوالیہ پہلو ہے۔ ذرائع کے مطابق اختلاف کرنے والے رکن نے واضح طور پر میرٹ اور قواعد کے برعکس کسی بھی دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث اس پورے عمل کے تحت ہونے والی ممکنہ تقرریاں قانونی اور اخلاقی لحاظ سے متنازع ہو سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیوٹا کمپنی کا مشہور زمانہ گاڑی فورچیونر کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان
دوسری جانب درخواست دہندگان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان سے فی درخواست 500 روپے فیس وصول کی گئی، جبکہ بیانِ حلفی کی مد میں جمع ہونے والی رقم محکمہ اسٹامپس کے اکاؤنٹ میں جمع کرائی گئی۔ اس کے باوجود امیدواروں کی بڑی تعداد یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ جب نتائج مبینہ طور پر پہلے ہی طے شدہ تھے تو پھر بھرتی کے اس پورے عمل کو کیوں اختیار کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق جہلم ویلی کی ایک نشست کے لیے تقریباً 50، نیلم کی دو نشستوں کے لیے 40 جبکہ مظفرآباد کی دو آسامیوں کے لیے لگ بھگ 150 درخواستیں موصول ہوئیں۔ اس طرح صرف درخواست فیس کی مد میں ایک خاطر خواہ رقم جمع ہونے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
مزید برآں، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مجاز حکام کی جانب سے پہلے سے تعینات عارضی ٹیچرز کو مستقل کرنے کے لیے بھرتی کے عمل کو محض رسمی کارروائی کے طور پر استعمال کیا گیا۔ لیپا میں عظمت بی بی، مظفرآباد میں نصرت اور عظمیٰ ظفر جبکہ نیلم میں شازیہ اور سلمیٰ کے نام بطور ممکنہ مستقل امیدوار سامنے آ رہے ہیں۔ یہ صورتحال ایک بنیادی سوال کو جنم دیتی ہے کہ اگر تقرریاں پہلے ہی طے تھیں تو پھر آزاد کشمیر بھر کی ڈپلومہ ہولڈر خواتین کو درخواستیں جمع کروانے، فیس ادا کرنے اور امیدیں وابستہ کرنے پر کیوں مجبور کیا گیا؟
سول سوسائٹی، تعلیمی حلقوں اور متاثرہ امیدواروں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بھرتیوں کے اس پورے عمل کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مبصرین کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات نہ صرف اداروں کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عام شہریوں کے حکومتی اداروں پر اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ بالخصوص نوجوانوں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیاں انہیں احتجاج پر مجبور کر سکتی ہیں، جو مستقبل میں امن و امان کے مسائل کو جنم دینے کا باعث بن سکتی ہیں۔




