واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری طویل سفارتی تعطل اور حالیہ جنگی تناؤ کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔
امریکی اخبار ‘ایگزیوس’ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس کو یہ قوی امید ہے کہ وہ ایران کے ساتھ ایک جامع مفاہمتی یادداشت (MOU) یعنی ‘ون پیج ایگریمنٹ’ پر دستخط کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اس ممکنہ معاہدے کا بنیادی مقصد فوری طور پر جنگ کا خاتمہ اور مستقل جوہری مذاکرات کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرنا ہے۔
معاہدے کی اہم شقیں اور 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن:
امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن تہران کی جانب سے آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر حتمی ردعمل کا منتظر ہے۔ اس معاہدے کی سب سے حساس شق یہ ہے کہ ایران اپنی یورینیم افزودگی کے عمل کو عارضی طور پر معطل کرنے کا وعدہ کرے گا، جس پر وہ بظاہر رضامندی ظاہر کر چکا ہے۔ اس کے بدلے میں امریکہ ایران پر عائد کئی اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور اس کے اربوں ڈالر کے منجمد اثاثے واگزار کرنے پر آمادگی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ مزید برآں، دونوں ممالک ‘آبنائے ہرمز’ میں ایک دوسرے پر عائد کردہ بحری پابندیاں ختم کر دیں گے، جس سے عالمی تجارتی منڈیوں میں پھیلا ہوا اضطراب کم ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے نیا نظام متعارف کروا دیا
30 روزہ مذاکراتی فریم ورک اور فوجی کارروائی کا انتباہ:
ایگزیوس کے مطابق، اس ابتدائی معاہدے کے تحت فریقین کے درمیان 30 روز پر مشتمل تفصیلی مذاکرات کے دور کا آغاز ہوگا۔ اس عرصے کے دوران مستقل امن کی بحالی، جوہری پروگرام کی حتمی حدود اور بحری ناکہ بندی کے مستقل خاتمے جیسے پیچیدہ معاملات پر گفتگو کی جائے گی۔ تاہم، امریکی حکام نے یہ کڑی شرط بھی رکھی ہے کہ اگر یہ 30 روزہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچنے میں ناکام رہے، تو امریکہ نہ صرف بحری محاصرہ دوبارہ بحال کر دے گا بلکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشن کو بھی استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
سفارتی کوششیں اور پسِ پردہ محرکات:
اس اہم سفارتی پیش رفت میں امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا کردار انتہائی کلیدی بتایا جا رہا ہے، جو براہِ راست اور ثالثوں کے ذریعے ایرانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ دوسری جانب، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تناؤ کو کم کرنے کی غرض سے اپنا وہ بحری مشن روک دیا ہے جو محض تین روز قبل ہی آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس اقدام کو تہران کے لیے ایک مثبت سفارتی اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حالیہ کشیدگی کا پس منظر:
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی کا آغاز رواں برس فروری میں آبنائے ہرمز کے تنازع سے ہوا تھا، جس نے عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کیا اور بحری تجارت کو بحران سے دوچار کر دیا تھا۔ اگرچہ گزشتہ ایک ماہ سے دونوں ممالک کے درمیان غیراعلانیہ جنگ بندی جاری تھی، لیکن اب ‘ون پیج ایگریمنٹ’ کے ذریعے اس بداعتمادی کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
معاہدے کے ممکنہ اثرات اور پائیداری:
اس ممکنہ معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا گیا ہے، جو امن کی امیدوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ 30 دن کی ڈیڈ لائن امریکہ کے لیے ایک ‘سیفٹی والو’ کی حیثیت رکھتی ہے جس سے ایران کی سنجیدگی کو پرکھا جا سکے گا۔ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو یورینیم کی افزودگی رکوانا واشنگٹن کی ایک بڑی سیاسی اور سفارتی فتح تصور کی جائے گی۔




