ایران نے امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر عالمی تجارت کے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کے لیے نیا طریقہ کار نافذ کر دیا ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، نئے نظام کے تحت اب آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند تمام بحری جہازوں کو ایک مخصوص ای میل کے ذریعے مطلع کیا جائے گا۔ یہ پیغامات “فارسی خلیج سٹریٹ اتھارٹی” سے منسلک ای میل ایڈریس سے موصول ہوں گے، جن میں جہازوں کو آمد و رفت کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط اور ضروری ہدایات فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ رکوانے والی دنیا کی طاقتور شخصیت ہیں،ہسپانوی جریدے کا اعتراف
امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی:
واضح رہے کہ ایران کی جانب سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ ایران نے رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال پیدا ہونے کے بعد سے اس اہم بحری گزرگاہ پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، جس کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بحری رسائی اور متضاد اقدامات:
آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر عائد ان پابندیوں اور نئے طریقہ کار کی وجہ سے خطے میں دفاعی اور سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بحری راستے تک رسائی کے حوالے سے دونوں جانب سے متضاد اقدامات کیے جا رہے ہیں، جس نے عالمی تجارتی اداروں اور جہاز ران کمپنیوں کے لیے تشویشناک صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایران کا یہ نیا نظام اس اسٹریٹجک گزرگاہ پر اپنے کنٹرول کو مزید مضبوط کرنے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔




