ہسپانوی جریدے کی رپورٹ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکہ اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں کا مرکزی کردار قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان کے سب سے طاقتور شخصیات میں شمار کیے جانے والے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کیےاور انہیں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کو معطل کرنے کا فیصلہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواستوں پر کیا گیا تھا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران دونوں کے ساتھ فعال سفارتکاری میں حصہ لیا ہے، جس میں انہوں نے اسلام آباد میں امریکی نائب صدر جے ڈی ونس کا استقبال کیا اور ایرانی قیادت کے ساتھ رابطے برقرار رکھے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایرانی حکام کے ساتھ روابط کے باعث اسلام آباد کو واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت کا مرکز بنا یا ۔ اگر پاکستان غیر متوقع طور پر ثالث کے طور پر ابھرا ہے تو فیلڈ مارشل عاصم منیر ہی اس بات چیت کو آگے بڑھا نے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیںاور دونوں اطراف کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے میں کامیاب رہے ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو تہران اور واشنگٹن کا بیک وقت دورہ کر سکتے ہیں، فون اٹھا سکتے ہیں اور پیغامات بھیج سکتے ہیں۔ انہوں نے ذاتی طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ہوائی اڈے پر پہلے استقبال کیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے 21اپریل کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی معیاد ختم ہونے سے کچھ دیر قبل سوشل میڈیا پر ایک نئی توسیع کا اعلان کیا تھا۔
پیغام میں انہوں نے ان اہم شخصیات کا نام لیا جنہوں نے مشرق وسطیٰ میں جنگ رکوانے میں اہم کردار ادا کیا ۔امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پرامریکہ نے ایران پر اس وقت تک حملہ روک دیا جب تک کہ اس کے رہنما اور نمائندے ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں۔
فیلڈ مارشل منیر کو اکثر پاکستان کا حقیقی طاقتور سمجھا جاتا ہے وہ ایک ایسے ملک کی سب سے طاقتور شخصیت ہیں جنہوں نے عالمی امن میں اہم کردار ادا کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان مضبوط ریاست، بھارت نے اب کوئی غلطی کی تو انجام عبرتناک ہوگا،لیفٹیننٹ جنرل ر عامر ریاض
1968 میں پیدا ہونے والے عاصم منیر نے فوج میں اہم انٹیلی جنس عہدوں پر کام کیا اور 2022 میں چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر اپنے فرائض انجام دیے۔ انہیں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔
ان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی شناخت نے امریکی قیادت کے ساتھ براہ راست ملاقاتوں میں مزید مضبوطی حاصل کی ہے، جن میں وائٹ ہاؤس میں ملاقاتیں بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کے وسیع تر اسٹریٹجک مفادات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جن میں ایران کے ساتھ سرحد پر استحکام برقرار رکھنا اور طویل المدتی سفارتی و ثقافتی تعلقات کو برقرار رکھنا شامل ہے۔
حال ہی میں تہران کے دورے کے دوران، عاصم منیر نے ایرانی وزیر خارجہ عباس ارقچی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقات کی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ثالث کے طور پر کردار اس کی جغرافیائی اہمیت اور فوجی قیادت کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ امریکہ اور ایران کے درمیان دیرپا معاہدے کا حصول اب بھی ایک چیلنج ہے، مگر جاری سفارتی مشغولیت کو کشیدگی کم کرنے اور خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔




