(کشمیر ڈیجیٹل): عدالت العالیہ آزاد جموں و کشمیر نے ایک اہم فیصلے میں حکومت کو گرلز مڈل سکول ہلمت کو فوری طور پر ہائی سکول کے طور پر اپ گریڈ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ یہ فیصلہ علاقے کی بچیوں کی تعلیم کے حق میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اہلیان علاقہ ہلمت بنام آزاد حکومت کے عنوان سے دائر رٹ پٹیشن میں درخواست گزاروں کی جانب سے مسلم لیگ ن حلقہ بالائی نیلم کے صدر خواجہ محمد اکبر ایڈووکیٹ نے عدالت میں پیروی کی۔ انہوں نے دلائل دیتے ہوئے واضح کیا کہ گرلز ہائی سکول نہ ہونے کے باعث آٹھویں جماعت کے بعد علاقے کی بچیوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مبہم اشتہار پر بھرتیاں ،آزادکشمیر ہائیکورٹ کا سخت ایکشن،سیکرٹریز کو طلب کرلیا
خواجہ محمد اکبر ایڈووکیٹ نے مزید دلائل میں کہا کہ آزاد کشمیر کے عبوری آئین 1974 کے آرٹیکل 4 کی شق 23 کے تحت میٹرک تک تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور اسے فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 3 کے تحت بچیوں کی تعلیم اور خواتین کو بااختیار بنانا ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ علاقے میں بچیوں کے لیے تعلیمی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے متعدد سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ ان میں چائلڈ لیبر، کم عمری میں شادیاں اور خاندانی سطح پر تعلیم و تربیت کے عمل کا جمود سرفہرست ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جہاں بنیادی حقوق کا معاملہ ہو وہاں کسی قسم کے اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کی گنجائش نہیں رہتی۔
دوسری جانب حکومت اور محکمے کے قانونی مشیر نے مخالفانہ دلائل پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ زیرِ بحث سکول اپ گریڈیشن کے مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔
فریقین کے تمام دلائل سننے کے بعد عدالت العالیہ کے جج جسٹس چوہدری خالد رشید نے رٹ پٹیشن منظور کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ محکمے کو گرلز مڈل سکول ہلمت کو فوری طور پر ہائی سکول میں اپ گریڈ کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ :ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کیس،لیز منسوخی کیخلاف دائر درخواست مسترد
عدالت العالیہ کے اس فیصلے پر اہلیان علاقہ نے بھرپور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ عوام نے عدالتی فیصلے کو سراہتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس حکم پر فوری طور پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔




