ایمرجنسی میں ڈاکٹر یا اے آئی؟ نئی تحقیق کے نتائج نے طبی دنیا میں کھلبلی مچا دی!

اسلام آباد: ہاورڈ میڈیکل سکول اور بیتھ اسرائیل میڈیکل سنٹر کے ماہرین کی ایک نئی تحقیق میں ایمرجنسی روم کے حقیقی کیسز میں مصنوعی ذہانت (AI) اور انسانی ڈاکٹروں کی کارکردگی کا موازنہ کیا گیا ہے۔

یہ تحقیق معروف جریدہ “سائنس” میں شائع ہوئی ہے جس میں ارجن منرائے کی قیادت میں ماہرین نے اوپن اے آئی کے ماڈلز او 1 اور او 4 کا تقابل انسانی معالجین سے کیا۔

تحقیق کے دوران بیتھ اسرائیل کے ایمرجنسی روم میں آنے والے 76 مریضوں کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ دو انٹرنل میڈیسن کے سینئر ڈاکٹروں کی تشخیص کا موازنہ اے آئی ماڈلز سے کیا گیا، جبکہ نتائج کا جائزہ لینے والے ڈاکٹروں کو یہ علم نہیں تھا کہ کون سی تشخیص انسان کی ہے اور کون سی اے آئی کی۔ نتائج کے مطابق او 1 ماڈل نے ہر مرحلے پر یا تو ڈاکٹروں کے برابر یا ان سے بہتر کارکردگی دکھائی۔ ابتدائی ایمرجنسی ٹرائیج کے مرحلے پر فرق زیادہ واضح تھا جہاں او 1 نے 67 فیصد کیسز میں درست یا قریب ترین تشخیص دی، جبکہ ایک ڈاکٹر کی کامیابی کی شرح 55 فیصد اور دوسرے کی 50 فیصد رہی۔

یہ بھی پڑھیں: تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی ،امریکی وزیر خزانہ نے بڑا دعویٰ کر دیا

تحقیق میں یہ نکتہ واضح کیا گیا کہ اے آئی کو وہی معلومات دی گئیں جو اس وقت ڈاکٹروں کے پاس موجود تھیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی اے آئی کو مکمل طور پر زندگی اور موت کے فیصلوں کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا اور مزید حقیقی دنیا کے تجربات کی ضرورت ہے۔ ایڈم روڈمین نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی تشخیص کے حوالے سے ابھی کوئی واضح جوابدہی کا نظام موجود نہیں اور مریض اب بھی اہم فیصلوں میں انسانی رہنمائی کو ترجیح دیتے ہیں۔

دوسری جانب اس تحقیق پر تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ایمرجنسی فزیشن کرسٹین پانتھاگنی نے اسے دلچسپ مگر حد سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ موازنہ ایمرجنسی اسپیشلسٹس کے بجائے انٹرنل میڈیسن ڈاکٹروں سے کیا گیا، جبکہ ای آر ڈاکٹرز کا اصل مقصد حتمی تشخیص کے بجائے فوری طور پر جان لیوا خطرات کو پہچاننا ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اے آئی کی بڑھتی صلاحیتوں کو تو ظاہر کرتی ہے مگر اسے فی الحال انسانی ڈاکٹروں کے متبادل کے بجائے صرف ایک معاون ٹول کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: مظفرآباد: علاج کے بعد صحت یاب ہونے والا تیندوا دوبارہ قدرتی ماحول میں رہا

Scroll to Top