پاکستان کی کامیاب ثالثی، امریکا نے ضبط شدہ ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا

اسلام آباد: پاکستان کی کامیاب ثالثی کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں بڑی کمی آئی ہے اور امریکی افواج نے قبضے میں لیے گئے ایرانی جہاز ’توسکا‘ کو عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایم وی ’توسکا‘ کے عملے کے 22 ارکان کی منتقلی کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے تاکہ انہیں بحفاظت وطن واپس بھیجا جا سکے۔ اس سے قبل عملے کے 6 دیگر ارکان کو پہلے ہی ایک علاقائی ملک کے ذریعے ایران روانہ کیا جا چکا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق اس جہاز کو 19 اپریل کو اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب اس نے آبنائے ہرمز میں امریکی احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔ امریکا، جو گزشتہ ایک ماہ سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کر رہا ہے، نے اس جہاز کو خلیج عمان میں قبضے میں لیا تھا، تاہم اب اس کی تحویل اصل مالکان کو واپس دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کی جائیگی،ایران

پاکستان اس تنازع میں ایک کلیدی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ فروری میں تنازع شروع ہونے کے بعد 11 اپریل کو اسلام آباد میں دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا تھا۔ اگرچہ وہ مذاکرات بظاہر کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوئے تھے، تاہم پاکستان کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کی میزبانی اور مسلسل سفارتی کوششوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کردیا

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایک اہم پیش رفت میں ایران کے ضبط شدہ بحری جہاز “ایم وی توسکا” کے 22 عملے کے ارکان کو پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام امریکا کی جانب سے اعتماد سازی کی ایک مثبت مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔

یہ افراد گزشتہ شب پاکستان پہنچے اور آج انہیں باقاعدہ طور پر ایرانی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ جہاز کو ضروری مرمت کے بعد پاکستانی سمندری حدود کے راستے اس کے اصل مالکان کو واپس کیا جائے گا۔ اس پورے عمل میں پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان قریبی تعاون دیکھنے میں آ رہا ہے۔

پاکستان نے اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنا کلیدی کردار جاری رکھے گا۔

Scroll to Top